مسئلہ کشمیر پر ذاتی یا قومی ایجنڈے کو فوقیت دینے کا فیصلہ کرنا ہو گا ، وزیر خارجہ

76

اسلام آباد(آن لائن)وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ ہمیں اب فیصلہ کرنا ہو گا کہ ہم نے ذاتی ایجنڈے کو یا قومی ایجنڈے کو فوقیت دینی ہے کیونکہ ذاتی مفاد سے پاکستان اور کشمیر کے ایجنڈے کو نقصان ہو گا ،اس لیے میری رائے ہے کہ اپوزیشن مقامی احتجاج کو چھوڑ کر کشمیریوں کے حق کے لیے احتجاج کرے ۔ ان خیالات کا اظہار شاہ محمود قریشی نے پیر کے روز نجی ٹی وی چینل سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں مسلسل کرفیو جاری ہے اور بھارتی سیاسی جماعتوں کے مطابق ہزاروں افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ انسانی حقوق کونسل نے بھی کشمیر کے حوالے سے پاکستان کے موقف کو تسلیم کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف ہم مسئلہ کشمیر پر قوم کو یکجا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ ہماری صفوں کو کچھ لوگ تقسیم کر رہے ہیں حالانکہ قوم اس وقت مکمل طور پر کشمیریوں سے یکجہتی کا اظہار کر رہی ہے اور اس کے علاوہ دنیا بھر میں بھی مظلوم کشمیریوں سے یکجہتی کے مظاہرے ہو رہے ہیں ۔ ہمیں اس وقت فیصلہ کرنا ہو گا کہ ہم قومی ایجنڈے یاپھر ذاتی ایجنڈے کو فوقیت دیں کیونکہ کشمیر پر پوری قوم کی سوچ ایک ہے ۔ہمیں اس وقت دنیا کی توجہ مسئلہ کشمیر پر مبذول کرانی ہے ۔آج ( منگل کو ) یورپی یونین میں بھی مسئلہ کشمیر زیر بحث آئے گا ۔اب اپوزیشن کو کشمیری اور پاکستانی عوام کی خواہشات کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کرنا ہو گا ۔