اندرون سندھ : آرٹیکل 149 کے نفاذ کیخلاف احتجاج

220
حیدرآباد ،قومی عوامی تحریک کے تحت آرٹیکل 149 کے خلاف پریس کلب کے سامنے احتجاج کیا جارہا ہے
حیدرآباد ،قومی عوامی تحریک کے تحت آرٹیکل 149 کے خلاف پریس کلب کے سامنے احتجاج کیا جارہا ہے

 

حیدرآباد، میہڑ، میرپور خاص، ٹنڈوالٰہیار، ڈگری، نوابشاہ، سجاول، شکارپور (نمائندگان جسارت) حیدر آباد پریس کلب کے سامنے مختلف سیاسی اور قوم پرست تنظیموں کی جانب سے کراچی کمیٹی اور آرٹیکل 149 کے نفاذ کی مخالفت میں احتجاجی مظاہرے اور وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم کی برطرفی کا مطالبہ کیا۔ عوامی جمہوری پارٹی حیدر آباد کی جانب سے پریس کلب حیدر آباد کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، جس سے ڈاکٹر اسلم میرانی، نذیر قریشی، عادل چانڈیو اور دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 149 کے تحت کراچی کو وفاق کے کنٹرول میں دیے جانے کا منصوبہ سازش ہے ہم اس کی سخت مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکمران عوام کے مسائل حل کرنے، غربت اور مہنگائی کم کرنے کے بجائے اس طرح کے مسائل پیدا کررہے ہیں، جس سے ملک میں مزید بے چینی پھیل رہی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ وزیر قانون فروغ نسیم کو فوری طور پر ہٹایا جائے کیونکہ اس سے ملکی سا لمیت کو خطرہ ہے۔ قومی عوامی تحریک کی جانب سے بھی وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم کیخلاف پریس کلب کے سامنے مظاہرہ کیا گیا جس سے ڈاکٹر گلزار جمانی، ڈاکٹر عزیز تالپور ، زینت سموں اور بابو میمن نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ سندھ توڑنے کی باتیں کرنے والوں سے ہماری جنگ ہے ۔ وفاقی وزیر فروغ نسیم کو فوری طورپر برطرف کیا جائے ۔ کراچی کمیٹی کو ختم کیا جائے ، انہوں نے کہاکہ عالمی طاقتوں کے ایجنٹ سندھ کو توڑنے کی سازشیں کررہے ہیں، سندھ کو توڑنے کا مقصد پاکستان کو توڑنا ہے۔ سندھ کے عوام اپنے مفادات کا تحفظ کرنا جانتے ہیں۔ کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان کی جانب سے بھی کراچی کمیٹی کے قیام کیخلاف پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس سے خطاب کرتے ہوئے کامریڈ اقبال نے کہاکہ کراچی کمیٹی بنانے کا مقصد سندھ کو توڑنا ہے جس کو کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔ فوری طورپر وزیرقانون فروغ نسیم کو برطرف کیا جائے۔ میہڑ میں وفاقی وزیر فروغ نسیم کے بیان اور کراچی کمیٹی سازش کیخلاف قومی عوامی تحریک کے مرکزی رہنما ایڈووکیٹ منور جتوئی کی رہنمائی میں نیشنل پریس کلب میہڑ کے آگے احتجاجی مظاہرہ، ایم کیو ایم کیخلاف سخت نعرے بازی۔ میہڑ میں قومی عوامی تحریک میہڑ کی جانب سے مرکزی احکامات پر کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے اور وفاقی وزیر فروغ نسیم کی برطرفی کے لیے قومی عوامی تحریک کے مرکزی نائب صدر ایڈووکیٹ منور جتوئی ضلع دادو کے صدر شبیر مشوری تعلقہ میہڑ صدر فیاض چانڈیو کی سربراہی میں تعلقہ اسپتال میہڑ سے گھنٹہ گھر چوک سے نیشنل پریس کلب میہڑ تک احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ احتجاج کو خطاب کرتے ہوئے مرکزی سینئر نائب صدر ایڈووکیٹ منور جتوئی شبیر مشوری اور دیگر رہنمائوں نے کہا کہ دہشت گرد تنظیم کے وفاقی وزیر کو فی الفور ہٹایا جائے اور کراچی کمیٹی سمیت سندھ توڑنے کی سازشیں ختم کی جائیں۔ وفاقی حکومت کی جانب سے کراچی میں آرٹیکل 149 لگانے کی تجویز کیخلاف پاکستان پیپلز پارٹی میرپور خاص کی جانب سے احتجاجی ریلی نکالی گئی اور پریس کلب کے سامنے دھرنا دیا گیا، وفاقی حکومت کیخلاف شدید نعرے بازی۔ وفاق کی جانب سے کراچی میں آرٹیکل 149 کے نفاذ کی تجویز کیخلاف پیپلز پارٹی میرپورخاص کی جانب سے سٹی آفس سے پریس کلب تک احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ دھرنے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے رکن قومی اسمبلی شمیم آرا پنہور، کرن ہری رام، میر حسن دھونکائی، سلام میمن، میر علی رضا تالپور، رفیق بھرگڑی اور دیگر نے کہا کہ وفاقی حکومت اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے ایسے حربے استعمال کررہی ہے آرٹیکل 149 کا نفاذ سندھ کی خود مختاری پر حملہ ہے اور ہم اس حملے کو ہر گز برداشت نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم ایک دہشت گرد جماعت سے وابستہ رہے ہیں، ہم ایسی تجویز دینے والے کوغدار سمجھتے ہیں۔ ٹنڈوالہٰیار میں پیپلز یوتھ ونگ کی جانب سے پی پی کے ضلعی جنرل سیکرٹری مولابخش تھیبو کی قیادت میں ڈیسکو ہوٹل کے مقام پر جیالوں کی جانب سے بھر پور احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ اس موقع پر وسیم لطیف منگریو، غلام محمد باغی، جلیل بلوچ، عبدالرحیم بلوچ سمیت دیگر رہنما نے احتجاجی مظاہر ے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پی پی کو چیئرمین بلاول زرداری کی قیادت میں پی پی کے جیالے متحد ہیں۔ فروغ نسیم سندھ کو تقسیم کرنے کی جو سازش کررہے ہیں وہ کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ ڈگری میں پریس کلب پر قومی عوامی تحریک کی جانب سے احتجاجی مظاہرے سے ضلعی صدر نثار احمد بھرگڑی، ارباب نوحانی، انور خاصخیلی اور دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وفاق کی جانب سے کراچی کمیٹی اور آرٹیکل 149 کی بات چھیڑ کر سندھ کو تقسیم کرنے کی سازش کی جارہی ہے۔ وفاق کے سندھ دشمن فیصلوں کیخلاف سندھ کے عوام سڑکوں پر ہیں۔ سندھ دھرتی کیخلاف کوئی سازش کی گئی تو ایسے غیر آئینی اور غیر جمہوری عمل کیخلاف سندھ کے عوام کا شدید احتجاج ہوگا۔جو وفاق کو ہلا کر رکھ دے گا۔مقررین نے سندھ کمیٹی آرٹیکل 149 کو مسترد کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ فروغ نسیم کو وزرات سے ہٹایا جائے۔ وفاق کی طرف سے آرٹیکل 149 کیخلاف پریس کلب نوابشاہ کے باہر پیپلز پارٹی کے ضلعی صدر کی قیادت میں دھرنا دیا گیا۔ اس موقع پر نوابشاہ ضلع پیپلز پارٹی کے صدر اکبر جمالی کا کہنا تھا کہ وفاق کی طرف سے آرٹیکل 149 سندھ پر نافذ کرنے کی ناکام کوشش ہے، ہم اس سازش کیخلاف ہیں اور آج اتنی بڑی تعداد میں جمع ہو کر ثابت کردیا ہے کہ ہم اس سازش کو اپنے جمہوری عمل کے ذریعے ناکام بنا دیں گے۔ سجاول میں بھی آرٹیکل 149 اور کراچی کمیٹی کیخلاف پی پی ڈاکٹر اقبال میمن کی قیادت میں ریلی نکالی گئی، مظاہرین وفاق کے غلط فیصلوں کیخلاف سخت نعرے بازی کی۔ اس موقع پر ڈاکٹر اقبال میمن، شفیع محمد لغاری اور دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں کوڑے کرکٹ کو جواز بناکر کراچی کا انتظام وفاق کے حوالے کرنے کی سازش کی جارہی ہے، جس کو کسی صورت میں قبول نہیں کیا جائیگا۔ قومی عوامی تحریک شکارپور کی جانب سے وفاقی حکومت کی جانب سے آرٹیکل 149 سندھ میں لاگو کرکے کراچی شہر کا انتظام وفاق کے حوالے کرنے کے خلاف لکھیدر چوک پر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے زاہد گھلو، ایڈووکیٹ ظفر چنا، زاہد بھنبھرو اور سید واجد علی شاہ نے کہاکہ وفاقی وزیر فرغ نسیم مسلسل سندھ کی وحدانیت پر حملہ کررہا ہے ، سندھ کو تقسیم کرنے کے بار بار اعلان کرکے دہشت گردی، انتہا پسندی والا تاثر دیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ وفاقی حکومت نے کراچی کمیٹی قائم کرکے بد نیتی کا واضح ثبوت دیا ہے، جس کو سندھی قوم رد کرتی ہے۔ وفاقی حکومت ہوش سے کام لے، سندھ کی وحدانیت پر حملہ کسی بھی صورت میں اور کسی بھی کمیٹی کی شکل میں قبول نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے مطالبہ کیاکہ وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم کو فوری برطرف کیا جائے۔ اس موقع پر سیاسی، سماجی، مذہبی، کاروبای، ملازم تنظیموں، ادیبوں، شاعروں اور صحافیوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔