قومی اتفاق رائے کے بغیر وزیراعظم کا جنرل اسمبلی سے خطاب ہوائی فائر ہوگا،لیاقت بلوچ

147

لاہور(نمائندہ جسارت) نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان اور ملی یکجہتی کونسل کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ وزیراعظم یو این او جنرل اسمبلی سے زور دار خطاب ضرور کریں لیکن ان کی پشت پر قومی اتحاد و اتفاق کی طاقت نہیں ہوگی تو یہ خطاب بے ثمر اور ہوائی فائر ہی ہوگا ۔یہ بھی بڑا المیہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان مسئلہ کشمیر پر قومی قیادت کو متحد کرنے اور قومی اتفاق رائے کی قومی پالیسی بنانے میں ناکام ہیں ۔ حکومت پاکستان عالمی مدبرین ، وزرائے خارجہ ، انسانی حقوق کی تنظیموں ، تھنک ٹینک کے سربراہوں کی عالمی کانفرنس منعقد کرے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے علما اور سیاسی کارکنان کے وفود سے گفتگو اور وسیم اسلم قریشی کی جانب سے حجاج کرام کے اعزاز میں ناشتہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ لیاقت بلوچ نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کے ظلم کو 43 دن ہو گئے ہیں ، عالمی برادری بھارت کو انسانی حقوق کی پامالی سے روکنے کے لیے جرأت مندانہ اقدام نہیں کر رہی ۔ کشمیریوں کا جرم صرف یہ ہے کہ وہ مسلمان ہیں اور حق خود ارادیت چاہتے ہیں ۔ لیاقت بلوچ نے کہاکہ بھارت نے طویل المیعاد جنگ پاکستان پر مسلط کردی ہے ۔ روزانہ سیز فائر لائن پر گولا باری اور فائرنگ کر کے فوجی جوانوں اور شہریوں کو شہید کر رہاہے ۔ انہوںنے کہاکہ بھارت کے مکروہ و ظالمانہ عزائم کے مقابلے کے لیے ملک کے اندر سیاسی ، اقتصادی استحکام لایا جائے ۔لیاقت بلوچ نے کہاکہ اہل ایمان اپنے اندر جھوٹ ، غیبت ، فریب ، ملاوٹ ، کم تولنے اور حسد کے بت توڑ دیں ۔ روزہ ، نماز ، حج کی عبادت مسلمان کو ذمے دار انسان بنانے کے لیے ہے۔