قائداعظم یونیورسٹی: طلبہ تنظیموں میں جھگڑا، جامعہ کو یرغمال بنانے کی کوشش

100

اسلام آباد (صباح نیوز) ملک کی نمبر ون قائداعظم یو نیورسٹی میں ہاسٹل کی منتقلی کے معاملے پر حالات کشیدہ ہوگئے، طلبہ کے ایک گروپ نے یونیورسٹی کے مین گیٹ کو زبردستی بند کرا دیا، یونیورسٹی انتظامیہ نے زبردستی تالے توڑ کر گیٹ کو کھول دیا، گیٹ بند کرنے کے دوران طلبہ گروپوں کی غنڈہ گردی، تلخ کلامی بھی ہوئی۔ وائس چانسلر قائد اعظم یونیورسٹی ڈاکٹر محمد علی نے کہا ہے کہ ہم امن عامہ کی صورتحال برقرار رکھنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں، طلبہ کو علم کے حصول کے لیے علمی ماحول فراہم کریں گے، طالبات کو ہاسٹل کی سہولت فراہم کریں گے، طلبہ کو نئے تعمیر شدہ ہاسٹل میںمنتقل ہونے کا کہا ہے، تمام طلبہ کو متبادل رہائش فراہم کی جا رہی ہے، امید ہے ضلعی انتظامیہ ہمارے ساتھ تعاون کرے گی۔ تفصیلات کے مطابق ایک لسانی طلبہ تنظیم کی طرف سے قائداعظم یونیورسٹی کو اس وقت یرغمال بنانے کی کوشش کی گئی جب انتظامیہ کی طرف سے چند طلبہ کو دوسرے ہاسٹل میں منتقل کر نے کا حکم نامہ جا ری کیا گیا، طلبہ گروپ نے غنڈہ گردی کرتے ہوئے یونیورسٹی کا مین گیٹ زبردستی بند کروا دیا اور طلبہ کو بھی دھمکانا اور بلیک میل کر نا شروع کردیا، اس موقع پر پولیس کی بھاری نفری یونیورسٹی پہنچ گئی اور طلبہ سے کہا کہ وہ گیٹ کو کھولیں اس دوران غنڈہ گردی کر نے پر 2 طلبہ کو گرفتار کر لیا گیا۔ بعد ازاں مبینہ طور پر سیاسی دبائو میں آکر پولیس نے طلبہ کے سامنے ہتھیار ڈال دیے اور گرفتار طلبہ کو رہا کر دیا۔ یونیورسٹی کے طلبہ کا کہنا ہے کہ جامعہ میں تعلیمی ماحول کو جان بوجھ کر چند شر پسند عناصر خراب کر نے کے درپے ہیں، یونیورسٹی انتظامیہ ان کے سامنے گٹھنے ٹیکنے کے بجائے ایکشن لے۔ ایسے گروپ کے ہاتھوں یونیورسٹی کو یرغمال نہ بننے دیا جائے، ہٹ دھرمی، غنڈہ گردی اور بلیک میلنگ کے مرتکب گروہ کیخلاف کارروائی کی جائے۔ جبکہ یونیورسٹی انتظامیہ نے کہا ہے کہ ایسے گروہ کو یونیورسٹی کا امن خراب نہیں کرنے دینگے۔ ایسے گروہ طلبہ کے مستقل سے کھیلنے کی کوشش کر رہے ہیں انہیں کامیاب نہیں ہونے دینگے۔