وادی اُردن پر صہیونی نظریں کیوں؟

175

 

مرکز اطلاعات فلسطین

عالمی برادری کی مجرمانہ خاموشی اور امریکا کی واضح ملی بھگت کے ہوتے ہوئے فلسطینی علاقوں میں صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کوئی حیرت کی بات نہیں۔ عالمی خاموشی اور امریکا کی صہیونی ریاست کی بے لاگ حمایت فلسطین پر صہیونی ریاست کے قبضے کی اشتہا میں اضافے کے دو بنیادی اسباب ہیں اور انہی کی بنا پر صہیونی ریاست دریائے اُردن سے بحر مردار تک کے علاقے کو اپنی نام نہاد ریاست میں شامل کرنا چاہتی ہے۔
حال ہی میں اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے انتخابی مہم کے دوران اعلان کیا کہ وہ 17 ستمبر کو ہونے والے پارلیمان (کنیسٹ) کے انتخابات کے بعد مقبوضہ مغربی کنارے کی وادی اردن کو اسرائیل میں ضم کرنے کا فیصلہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ وادی اردن اور شمالی بحیرہ مردار پر ’’اسرائیلی خودمختاری‘‘ نافذ کی جائے۔ مغربی کنارے کو دوسرا غزہ بننے سے روکنے کا ایک ہی راستہ ہے کہ غرب اردن کےعلاقوں کو اسرائیل میں ضم کرلیا جائے۔
نیتن یاہو نے زور دے کر کہا کہ یہ قدم انتخابات کے فورا بعد ہو گا تاکہ ان کے انتخابات کی صورت میں عوام پر اعتماد کا یقین دلایا جاسکے۔ نیتن یاہو کے اس اعلان پر فلسطینی برادری ،بین الاقوامی اور عرب ممالک کی سطح پر شدید مذمت اور غم وغصہ پایا گیا۔ وادی اردن پر قبضے سے متعلق نیتن یاہو کا بیان وادی اردن کی اسرائیل اور فلسطینیوں کے لیے تزویراتی اہمیت کی عکاسی کرتا ہے۔
جغرافیائی اعتبار سے وادی اردن شمال میں بحیرہ طبریا سے بحیرہ مردار تک پھیلی ہوئی ہے۔ مغربی کنارے سے بحیرہ مردار تک صہیونی ریاست کاغاصبانہ قبضہ ہے اور اسے عالمی برادری بھی تسلیم نہیں کرتے۔وادی اردن اور شمالی بحر مردار کا علاقہ مغربی کنارے کے مشرق میں واقع ہیں۔ وادی اردن کی لمبائی 120 کلو میٹر اور چوڑائی 15 کلو میٹر ہے۔اسرائیل میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم بتسلیم کی رپورٹ کے مطابق وادی اردن کا مجموعی رقبہ 16 لاکھ دونم ہے جو مغربی کنارے کا 30 فی صد ہے۔ انسانی حقوق گروپ بتسلیم کا کہنا ہے کہ وادی اردن میں فلسطینی آبادی 65 ہزار اور یہودی آباد کار 11 ہزار ہیں۔
فلسطینی حکومت کے انفارمیشن آفس کے ذریعے شائع ہونے والی ایک پچھلی رپورٹ کے مطابق وادی اردن میں 2 لاکھ 80 ہزار دونم قابل کاشت رقبہ ہے،جس میں سے فلسطینیوں کے پاس  50 ہزار دونم جبکہ 27 ہزار یہودی آباد کاروں کے قبضے میں ہے۔ مرکزاطلاعات فلسطین کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے 1967ء میں وادی اردن پرقبضے کے بعد وہاں پر 90 فوجی کیمپ اور چھائونیاں قائم کیں اور  31ہودی بستیاں تعمیر کرکے اس پرقبضہ مضبوط کرنے کی مذموم کوشش کی گئی۔رپورٹ کے مطابق اسرائیلی قبضے نے 1967ء سے وادی اردن کے 50 ہزار سے زیادہ باشندوں کو بے گھر کردیا ہے۔ بتسلیم کی رپورٹ سے پتا چلتا ہے کہ 1993ء میں اسرائیل اور پی ایل او کے مابین طے پائے اوسلو معاہدوں کے مطابق اس علاقے کے 90 فی صد حصے کو ’’زون C‘‘ میں شامل کیا گیا۔ یہ زون مکمل طور پر اسرائیلی سیکورٹی اور انتظامی کنٹرول میں ہے۔
وادی اردن میں آبادی کم اور زمین انتہائی زرخیز ہے۔ اس میں بہت ساری کھلی جگہیں شامل ہیں۔ ان خصوصیات نے اس علاقے کو مغربی کنارے کی ترقی کے لیے زمین کا سب سے بڑا ذخیرہ بنا دیا ہے۔ شہری مراکز ، توانائی اور صنعت کے شعبوں میں برآمدات اور بنیادی ڈھانچے کی سہولیات کو ترقی دے کر اس علاقے کو تجارتی مرکز بنایا جاسکتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ صہیونی ریاست بحیرہ مردار کے اطراف کی ساری ارضی پر اپنا غاصبانہ اور فوجی تسلط قائم کیے ہوئے ہے۔ بتسلیم کا کہنا ہے کہ بحیرہ مردار کی 85 فی صد اراضی سے اسرائیل نے فلسطینیوں کو محروم کر رکھا ہے۔ اعداد شمار کے مطابق 2006ء سے ستمبر 2017ء کے درمیان اسرائیل نے وادی اردن میں کم از کم 698 رہایشی یونٹوں کو مسمار کردیا۔ یوں فلسطینیوں کے لیے وادی اُردن میں عرصہ حیات تنگ کیا جا رہا ہے اور یہودی آباد کاروں کو بسانے کے لیے زیادہ سے زیادہ یہودیوں کو وہاں پر لایا جا رہا ہے۔