پاکستان رائٹرز فورم اور الخدمت کے تحت مقبوضہ کشمیر کی صورت حال پر سیمینار

169

 

مکتوب جدہ

جدہ میں پاکستان رائٹرز فورم (پی ڈبلیو ایف) اور الخدمت کے تحت ’’مقبوضہ جموں و کشمیر کی موجودہ صورت حال اور ہماری ذمے داری‘‘ کے عنوان سے ایک سیمینار منعقد ہوا، جس کی صدارت پاکستان جرنلسٹس فورم (پی جے ایف) کے چیئرمین امیرمحمد خان نے کی جبکہ الخدمت سعودی عرب کے صدر مولانا حبیب الرحمن مہمانِ خصوصی تھے۔
تقریب کا آغاز قاری محمد آصف نے تلاوت قرآن پاک سے کیا اور محمد نواز جنجوعہ نے بارگاہ رسالت میں ہدیہ نعت پیش کیا۔ طالب علم احمد بن زبیر نے کشمیر کےحوالے سے نظم پڑھی۔
امیر محمد خان نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ عالمی برادری اور حقوق انسانی کے نام نہاد علم برداروں کی مجرمانہ غفلت نہ صرف قابل مذمت ہے بلکہ ناقابل برداشت ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین کو تنگ گلی میں دھکیل دیاگیا ہے۔ بھارت کشمیریوں کو حق خود اردیت دینے سے مسلسل انکار کررہا ہے جبکہ کشمیری عوام اس وقت بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہیں۔ انہیں بھارت کے جبروتشدد سے آزاد ہونے کے لیے جہدو جہد پر مجبور کردیا گیا ہے۔
دیگر مقررین محمد امانت اللہ، شمس الدین الطاف، مصطفی خان، اراکان تحریک کے رہنما نور الدین وصی، ڈاکٹر سعید بیبانی، ملک محی الدین، جمیل راٹھور اور مولانا حبیب الرحمن نے مقبوضہ جموں کشمیر کی موجودہ صورت حال پر اپنے پُر جوش خطاب میں کہا کہ بہت افسوس کا مقام ہے کہ جموں و کشمیر کے عوام 40 روز سے محصور ہیں۔ 72 برس سے ظلم وستم اور درندگی کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔ ہزاروں شہدا اپنی جان کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں مگرعالمی برادری اور مسلم امہ بھارت کی جارحیت اور کھلی ریاستی دہشت گردی پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔
ناظم تقریب جدہ کے معروف شاعر زمرد خان سیفی نے حاضرین محفل کا خیر مقدم کرتے ہوئے پی ڈبلیو ایف اورالخدمت کا تعارف پیش کیا۔ انہوں نے بتایا کہ پی ڈبلیو ایف ایک ایسا علمی و ادبی ادارہ ہے جس نے ہمیشہ بامقصد اور حالات حاضرہ کے حوالے سے معیاری پروگرام منعقد کیے ہیں۔ وطن عزیز کے قومی تہواروں کے حوالے سے، اکابرین اسلام کی نامور شخصیات کے حوالے سے کئی قابل قدر پروگرام کرچکے ہیں۔ الخدمت عالمی سطح پر ایک ایسا معروف فلاحی ادراہ ہے جس نے وطن عزیز پاکستان کے علاوہ دنیا بھر میں جہاں کہیں بھی انسانی المیے ہوئے ہیں ان کی مدد کے لیے دن رات ایک کردیا۔
چیئرمین پاکستان رائٹرز فورم انجینئر سید نیاز احمد نے سمینار میں شرکت پر حاضرین کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے سمینار کے منتظمین زاہد حسین، توقیر احمد اور انس زبیر کے تعاون کا شکریہ ادا کرتے ہوئے درج ذیل قرار دادیں پیش کیں، جنہیں حاضرین نے اکثریت سے منظور کیا۔
۱۔ اقوام متحدہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے ہاتھوں جاری قتل عام رکوائے اور اپنی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کے حق خودارادی کو عملی طورپر نافذ کرائے۔
۲۔ میانمر کی ریاست اراکان میں انسانی المیے کو روکنے کی لیے ٹھوس اقدام کیے جائیں اور اپنی نگرانی میں روہنگیا کے مسلمانوں کی محفوظ واپسی کو یقینی بنایا جائے۔
پروگرام کا اختتام محسن غوری کے دعائیہ کلمات پر ہوا۔