سعودی تیل تنصیبات پر حملے‘ ایران پر الزام

133

 

بی بی سی

امریکی سیکرٹری خارجہ مائیک پومپیو نے ہفتے کے روز سعودی عرب کی تیل تنصیبات پر ہونے والے ڈرون حملوں کا الزام ایران پر عائد کردیا ہے۔ انہوں نے یمنی حوثی باغیوں کے اس دعوے کو بھی رد کردیا جس میں انہوں نے بقیق اور خریص میں سعودی تیل کمپنی ارامکو پر حملوں کی ذمے داری قبول کی تھی۔
اُدھر سعودی عرب کے وزیر توانائی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ تیل تنصیبات پر حملوں سے خام تیل کی پیداوار میں 57 لاکھ بیرل فی دن کمی واقع ہوئی ہے، جو ملک میں تیل کی نصف پیداوار ہے۔ اس حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ واقعے کے نتیجے میں عالمی تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ہو سکتا ہے۔
ٹی وی پر نشر ہونے والی وڈیو میں بقیق میں ڈرون حملے کے بعد ارامکو کے تیل کے سب سے بڑے پراسیسنگ پلانٹ پر لگی آگ کو دیکھا جا سکتا ہے جبکہ خریص میں دوسرے حملے سے بھی کافی نقصان ہوا ہے۔
سعودی عرب اور مغربی ممالک کا فوجی اتحاد یمنی حکومت کی حمایت کرتا ہے جبکہ یمن میں حوثی باغیوں کو ایران کی حمایت حاصل ہے۔ اگر ان حملوں کے پیچھے حوثی باغی تھے تو ان کے ڈرونز نے یمن سے سعودی عرب تک کئی میل کا سفر طے کیا ہو گا۔ امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق ماہرین اس بات کا جائزہ بھی لے رہے ہیں کہ ان حملوں کے پیچھے ایران یا عراق میں موجود ان کے حمایتی ہو سکتے ہیں جنہوں نے ڈرونز کی جگہ کروز میزائل استعمال کیے۔
بقیق سعودی عرب کے مشرقی صوبے میں ظہران شہر سے 60 کلومیٹر جنوب مغرب میں ہے جبکہ 200 کلومیٹر مزید جنوب مغرب میں قائم خریص میں ملک کی دوسری سب سے بڑی آئل فیلڈ ہے۔
تہران اور واشنگٹن کے تناؤ کے حوالے سے تھوڑا پیچھے چلیں تو پتا چلے گا کہ امریکا اور ایران کے درمیان تازہ کشیدگی اس وقت بڑھنا شروع ہوئی جب گزشتہ برس واشنگٹن نے یکطرفہ طور پر 2015ء کے جوہری معاہدے سے خود کو علاحدہ کر لیا۔ اس کے بعد سے امریکا نے ایران کے تیل کے شعبے پر از سر نو پابندیاں عائد کر دیں ہیں اور اس سلسلے کو جاری رکھتے ہوئے محکمہ خزانہ کئی اداروں اور شخصیات کو بھی اپنی پابندیوں کے نشانے پر لے چکا ہے۔
مائیک پومپیو نے کیا کہا؟
امریکی سیکرٹری خارجہ مائیک پومپیو نے اپنی ٹویٹ میں کہا ہے کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ ڈرون یمن سے آئے۔ یہ واقعہ دنیا کی توانائی کی فراہمی پر ایک غیر معمولی حملہ ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ہم تمام ممالک سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ایران کی جانب سے کیے گئے اس حملے کی عوامی سطح پر مذمت کریں جبکہ امریکہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ اشتراک سے کوشش کرے گا کہ توانائی کی منڈیوں میں تیل کی فراہمی بغیر رُکے جاری رہے۔
سعودی عرب کیا کہتا ہے؟
سرکاری خبر رساں ادارے سعودی پریس ایجنسی کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ چار بجے (مقامی وقت کے مطابق) ارامکو کی انڈسٹریل سیکورٹی ٹیموں نے بقیق اور خریص میں اپنی دو تنصیبات میں ڈرونز کی وجہ سے لگنے والی آگ سے نمٹنا شروع کیا اور بعد میں انہوں نے اعلان کیا کہ آگ پر قابو پا لیا گیا ہے مگر سعودی سرکاری میڈیا نے اپنی خبروں میں یہ نہیں بتایا کہ ان تازہ حملوں کے پیچھے کون ہو سکتا ہے۔ سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے فون پر امریکی صدر ٹرمپ کو بتایا ہے کہ شدت پسند جارحیت کا مقابلہ کیا جائے گا۔
حوثی باغی کیا کہتے ہیں؟
یمن میں حوثی باغیوں نے اہم سعودی تیل تنصیبات پر حملوں کی ذمے داری فوراً قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے مشرقی سعودی عرب میں دنیا کی سب سے بڑی تیل ریفائنری پر حملے کرنے کے لیے ڈرونز کا استعمال کیا جس کے بعد اس میں آگ بھڑک اٹھی۔ حوثی باغیوں کے مطابق انہوں نے بقیق پلانٹ اور خریص آئل فیلڈ پر حملے کے لیے 10 ڈرون بھیجے تھے۔ اس کے علاوہ حوثی باغیوں نے سعودی عرب کے خلاف حملوں کا دائرہ وسیع کرنے کی دھمکی بھی دی ہے۔ واضح رہے کہ سعودی عرب اس سے پہلے کیے گئے حملوں کا الزام بھی یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی جنگجوؤں پر عائد کرتا ہے۔
حملوں کے پیچھے کون ہو سکتا ہے؟
گزشتہ ماہ شیبہ میں قدرتی گیس کو مائع بنانے والی تنصیبات پر اور مئی میں دیگر تیل تنصیبات پر ڈرون حملوں کے لیے حوثی جنگجوؤں کو سعودی عرب کی جانب سے موردِ الزام ٹھہرایا گیا تھا۔ ایران کی حمایت یافتہ باغی تحریک یمنی حکومت اور سعودی اتحاد کے خلاف برسرِ پیکار ہے۔ یمن 2015ء سے جنگ کا شکار ہے جب صدر عبدربہ منصور ہادی کو حوثیوں نے دارالحکومت صنعا سے نکلنے پر مجبور کر دیا تھا۔ سعودی عرب صدر ہادی کی حمایت کرتا ہے اور اس نے باغیوں کے خلاف علاقائی ممالک کے ایک اتحاد کی قیادت کی ہے، جس کی جانب سے تقریباً روزانہ فضائی حملے کیے جاتے ہیں جبکہ حوثی اکثر سعودی عرب میں میزائل فائر کرتے ہیں۔
سعودی عرب اور امریکا دونوں ہی نے ایران پر جون اور جولائی میں خلیج میں ہونے والے دو آئل ٹینکروں پر حملوں کا الزام عائد کیا جبکہ تہران کی جانب سے ان الزامات کی تردید کی گئی ہے۔ مئی میں دو سعودی پرچم بردار ٹینکروں سمیت چار ٹینکر خلیجِ عمان میں متحدہ عرب امارات کی بحری حدود میں دھماکوں سے نقصان کے شکار ہوئے تھے۔ سعودی عرب اور اس وقت امریکا کے قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن نے ایران پر الزام عائد کیا تھا، تاہم تہران کی جانب سے ان الزامات کو مضحکہ خیز قرار دیا۔
اہم ترین بحری راستوں میں تناؤ میں جون میں اس وقت اضافہ ہوگیا جب ایران نے آبنائے ہرمز کے اوپر ایک امریکی جاسوس ڈرون کو مار گرایا۔ اس کے ایک ماہ بعد امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے اعلان کیا کہ وہ سعودی عرب میں فوجی تعینات کرے گا۔