سلیقہ اور سادگی

320

فرح افتخار

گزشتہ سال ہماری ایک عزیزہ رشتہ دار نے گھر شفٹ کیا تو دیکھنے کی خواہش پیدا ہوئی انہوں اپنے گھر دعوت بلایا یوں وہاں سب سے ملے اور گھربھی دیکھ لیا، خیر گھر دیکھ کرجہاں حیرت ہوئی تو ساتھ ہی خوشی بھی کہ آج کل کے دور میں جب ہر کوئی ولایتی طرز پر بنگلے بنارہا ہے پردے فرنیچر سے لیکر باتھ روم کے نلکوں تک سب کچھ ہی امپورٹ ہوتا ہے ان کے ہاں ایسا کچھ بھی نہیں تھا کل 4 باتھ روم تھے اور وہ بھی سب اٹیچڈ نہیں تھے صرف ایک میں کموڈ کی سہولت تھی تو وہ بھی گھر کی واحد بزرگ خاتون کے لیے۔ میرے پوچھنے پر انہوں نے کہا کہ اس سے طرح طرح کے نفسیاتی اور روحانی امراض سے بھی جان چھوٹتی ہے۔اور دوسرا یہ واش رومز جلدی گندے نہیں ہوتے تا دیر خشک رہتے ہیں اس لئے کمروں سے کافی پرے ہیں۔ اچھا اب آئو میں تمہیں اپنا کمرہ دکھاتی ہوں وہ ہاتھ سے پکڑ کر کچن میں لے آئیں تو ہم نے تجسس کے مارے کہہ دیا ارے یہ کیا ناعمہ باجی یہ تو کچن ہے۔ ہاں ناں اور نہیں تو کیا یہی تو ہے میرا کمرہ انہوں نے خوشی سے چہکتے ہوئے بتایا پھر گویا ہوئیں کہ ہماری امی نے ہمیں اسی طرح تو گھرداری سکھائی ہے وہ ہمیشہ کہا کرتی تھیں کہ باورچی خانہ ہی دراصل خاتون خانہ کا کمرہ ہوتا ہے اسے سجائو صاف ستھرا رکھو اور زیادہ وقت گزارا کرو اور واقعی ان کا کشادہ کچن صفائی اور سلیقہ کا آئینہ دار تھا۔ آخر ہم نے پوچھ ہی لیا کہ ناعمہ باجی نقشہ کس کی پسند کا ہے تو انہوں نے اپنی ساس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ سب کچھ ان کی مرضی کے مطابق ہوا ہے۔ گھر کے احاطے میں انیکسی کے ساتھ ایک چھوٹا سا باغیچہ بھی تھا جہاں سب کے لیے خاطر تواضع کا اہتمام کیا گیا تھا اسکے ایک طرف موسم کے لحاظ سے کچھ سبزیاں بھی تھیں۔ فرنیچر بھی کافی پرانا تھا جسےپالش کروالیاگیا تھا۔ نماز کے بعد اس کے کھانا لگ گیا جس میں قورمہ اور فیرنی گھر میں پکائی گئی تھی۔ بریانی باہر سے منگوائی گئی جبکہ خاص طور پر اماں جان نے فرمائشی کھٹی مرچوں کا سالن خود پکا یا تھا جسے سب چاٹتے رہ گئے۔ اماں ہی ہر سال ہی ایسی تکلف دعوت کا اہتمام کرتی ہیں تاکہ سب رشتہ داروں سے میل ملاقات بھی ہوجائے اور ایک دوسرے کے مسئلوں سے آگاہی بھی ہو چونکہ اماں ہی خاندان کی بڑی بھی ہیں اس لئے سب ان سے ہی مشورے طلب کرتے ہیں اس سے قبل کہ ان کی مشوروںکی پٹاری کھلتی ہم نے ہمت کرکے ان سے پوچھ لیا کہ اماں جان اتنی کفایت شعاری، سادگی کا مظاہرہ کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ تو انہوں نے ہنستے ہوئے جوابدیا کہ سادگی کا ہی تو کرشمہ ہے کہ گھر میں آج خیر و برکت ہے کوئی مالی پریشانی نہیں میری دونوں بیٹیاں عالیہ اور نائلہ اپنے گھر کی ہو چکی ہیں اور پھر بیٹا اس سادگی اور قتاعت کی عادت سے اتنی بچت ہوجاتی ہے کہ غریب رشتہ داروں کی مدد کرلیتی ہوں اور دیگر مستحقین میں خیرات
بھی وافر ہوجاتی ہے دوسرا میرا دل مطمئن رہتا ہے وہ ہے نا جتنی دولت اتنی آزمائش اماں بی نے کہتے ہوئے مزید یہ کہا آجکل نت نئے لباس کے فیشن اور زیورات کے ڈیزائن نکل رہے ہیں اگر خدانخواستہ میرا رحجان اسطرف ہووتا تو میرا تو اوڑھنا بچھوناہی ان کاموں میں لگ جاتا صد شکر کہ میری والدہ کی تربیت ایسی نہیں تھی بچپن میں جب کچھ تنگدستی تھی تو اکثر ہماری والدہ ایک ہانڈی میں بہت ساری پیاز شامل کرکے آملیٹ بنا دیتی تھیں جسے ہم بہن بھائی ملکر کھاتے تھے یوں ہمارے بڑوں نے ہمیں اتفاق سے مل جل کھانا اور رہنا سکھایا۔ناعمہ باجی ہم سب کیلئے ایک اسپیشل گرین ٹی بناکر لے آئیں میں نے اس کی ترکیب پوچھی تو بتایا کہ سونف، سبز الائچی اور پودینے کی ڈںڈیاں لے کر پانی میں اچھی طرح جوش دے لیں پھر چولہا بند کرکے اس میں سبز چائے ڈال دیں کلر آنے پر چھان لیں اور لیموں کا عرق، شہد ملاکر نوش کرلیں ذائقہ کا ذائقہ اور صحت کی صحت، اس اسپیشل قہوہ کے ساتھ ہمیں نمکین مصالحہ دار مونگ پھلی بھی پیش کی گئی یوں دعوت کا مزہ بھی دوبالا ہوگیا۔ اس دوران اماں جان بھی سب کو اپنی بنائی ہوئی چیزیں شوق سے دکھاتی پھررہی تھیں۔ چھوٹے پوتے احمر کیلئے کروشیے سے بنا ہوا فیڈر کور اور شوز تو ایک طرف ان کا کروشیے کا ہی اسٹائلش سا پرس تو سب کے ہی ہاتھوں میں جھول رہا تھا۔ ہم میں سے اکثر نے ان سے سیکھنے کی خواہش ظاہر کی تو انہوں نے بلا چوں چرا حامی بھرلی کہ ان چھٹیوں میں تم لوگوں کی کلاسز رکھوںگی فی الحال تو میرا عمرہ پہ جانے کا ارادہ ہے دعا کرو یہ عبادت ہوجائے یہ سننا تھا کہ ہم سب نے انہیں پیشگی مبارکباد دے ڈالی۔ الغرض یہ کنبہ تو کم خرچ بالا نشین والی مثال پر فٹ آتا ہے مگر کیا ہمارے مذہب اور دین میں سادگی کی اہمیت اور فادیت سے انکار ممکن ہے؟ حضرت عبداللہ بن عمر و بن العاصؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہؐ نے فرمایا ’’کہ کامیاب ہوگیا وہ شخص جو اسلام لایا اور اسے بقدر کفاف روزی دی گئی اتنی روزی جس سے اس کی ضروریات پوری ہوجائیں) اور جو کچھ خدا نے اسے دیا اس پر قناعت کرنے کی توفیق عطا فرمادی (مسلم)۔