اطاعت رسولؐ کے بغیر ایمان معتبر نہیں

147

پرفیسر عبدلاحمید ڈار

حضرت عبداللہ بن عمروؓ سے روایت ہے کہ حضورؐ نے ارشاد فرمایا:
’’تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنی خواہشات نفس کو میری لائی ہوئی تعلیمات کے تابع نہ کر دے‘‘۔
(تفہیم الاحادیث، بحوالہ مشکوۃ، باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ فضل دوم بحوالہ شرح السنۃ)
اللہ رب العزت نے انسان کو تخلیق فرمایا تو اپنی حکمت سے اس کی فطرت کے طاق میں خواہشات کا چراغ بھی رکھ دیا۔ یہ خواہشات یوں تو ان گنت ہیں لیکن میں حب آل، حب مال اور حب جاہ بڑی قوی اور منہ زور ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی ذات سراپا خیر ہے۔ اس کا کوئی کام حکمت اور انسانوں کی مصلحت کے بغیر نہیں ہوتا۔ فطرت انسانی کے ساتھ ان خواہشات کو لگانے کا مقصد یہ تھا کہ انسان ان کی تسکین کی جدوجہد کے ذریعے تعمیر ذات یعنی قوائے شخصی کی تربیت و نشونما اور تسخیر کائنات کے عمل کہ پایہ تکمیل تک پہنچائے اور یوں اللہ پاک کی رضا کے تابع رہ کر زندگی کی راحتوں اور امن و سکون کی نعمتوں سے ہمکنار ہو سکے۔ لیکن شیطان لعین نے انسان کی اسی متاع گراں بہا کو اپنی ترکتازیوں (حملوں) کا ہدف بنا کر انسان کو ذلت و ضلالت کی وادیوں میں بھٹکنے اور یاس اور نامرادی کی راہ پر لگا دیا۔ اس نے اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہو کر اس بات کا اعلان کر دیا کہ وہ اس کی تخلیق کے شاہکار انسان کو خواہشات کے سبز باغ دکھا کر اور اسے مرغوبات نفس کا اسیر بنا کر اللہ کا نافرمان بنائے گا۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو شیطان مردود کے شر اوردجل و فریب سے بچانے کے لیے ابتدائے آفرنیش سے ہی اس کی ہدایت و رہنمائی کا اہتمام فرمایا اور آسمانی کتابوں اور انبیاء علیہ السلام کی بعثت کے ذریعہ انسان کو نجات کی راہ دکھا دی۔ اس سلسلہ ہدایت کی تکمیل حضورؐ پر ہوئی اور آپؐ پر ایمان اور آپ کی کامل اطاعت کو رضائے الٰہی کے حصول کا واحد اور یقینی لازمہ قرار دیا۔ آل، مال اور جاہ و اقتدار جیسی منہ زور خواہشات کے بے لگام چھوڑ دینے اور انہیں شیطان کی دسیسہ کاریوں کے لیے کھلی چراگاہ بنا دینے سے تاریخ انسانی میں فتنہ فساد کی جو آگ بھڑکی ہے اور انسانی خون کی ارزانی سے زمین کا سینہ رنگین ہوا ہے اس کو ختم کرنے اور نوع انسانی خواہشات کی باگیں شیطان لعین کے ہاتھ میں دینے کے بجائے حضور جو اللہ کے مجاز نمائندے اور اس کی منشا کے ہر چھوٹے بڑے معاملہ میں آپ کی اطاعت کرے اور آپ کے حکم اور فیصلہ کو بہ تمام و کمال پورے شرح صدر کے ساتھ قبول کرے اور اس بارے میں کسی استثنا اور عذر کو ملحوظ خاطر نہ لائے۔ اللہ تعالیٰ کو اسی نوعیت کی اطاعت رسول مطلوب ہے اور حضور پر ایمان کا مطلب و منشا بھی یہی ہے۔ اس سے کمتر چیز اللہ کی نگاہ اور میزان میں کوئی وزن نہیں رکھتی۔ قرآن پاک میں بھی اللہ رب العزت نے اسی بات کو ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے۔
’’پس نہیں، تیرے رب کی قسم وہ مومن نہیں ہیں جب تک ان تمام معاملات میں جو ان کے درمیان پیدا ہوں وہ تم کو حکم نہ بنائیںاور پھر تمہارے فیصلہ سے اپنے دلوں کے اندر کوئی تنگی بھی محسوس نہ کریں اور وہ پورے طور پر اپنے آپ کو تمہارے تابع نہ کر دیں۔‘‘ (سورۃ النساء: 65)
افسوس کے آج صورت حال بہت مختلف ہو گئی ہے۔ ہماری اکثریت نے شیطان کی اکساہٹوں سے اپنی خواہشات نفس کو اپنا معبود بنا رکھا ہے۔ رسومات اور دیگر معاملات زندگی میں ہماری پسند اور ناپسند کا معیار اپنی خواہشات اور مفادات ہی بن کر رہ گئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری انفرادی و اجتماعی زندگی کی کل بگڑ گئی ہے اور امن و سکون اور تحفظ جان و مال کے بجائے فتنہ و فساد اور ہر وقت کا ذہنی دبائو اور بے چینی و بے کلی ہمارا مقدر بن کر رہ گئی ہے۔
اللہ تعالیٰ حضورؐ کی تعلیمات پر صحیح ایمان نصیب فرمائے اور آپ کی کامل اطاعت کو ہمارا وظیفہ حیات بنا دے۔ (آمین)