احساس ذمہ داری

132

افسانہ
صبیحہ اقبال

اخبار میں صحت کے حوالے سے ایک ہی صفحے پر اتنی ہولناک بڑی خبریں پڑھ کر قلم اٹھانے پر دل مجبور ہوا۔ ایک خبر ہے کہ ’’لاڑکانہ کے سرکاری اسپتال میں غیر تربیت یافتہ عملے کے ہاتھوں موت کا رقص جاری ہے‘‘ خبر میں بتایا گیا ہے کہ قنبر کی رہائشی 26 سالہ زیب النساء کے ہاں شیخ زید وومن اسپتال میں یکم اگست کو بچے کی ولادت ہوئی جس کے بعد زچہ و بچہ کو صحتمند قرار دے کر وارڈ میں منتقل کر دیا گیا جہاں غیر تربیت یافتہ نرس کے ہاتھوں غلط انجکشن کے سبب زچہ موت کی آغوش میں جا سوئی۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے وطن عزیز میں اکثر دیہی علاقوں کے اسپتال مقتل میں تبدیل ہو چکے ہیں تھر اور اندرون سندھ اس طرح کی اموات میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔
دوسری خبری پاکستان موبائل ہیلتھ کلینک سے متعلق ہے کی حکومت سندھ اور سماجی تنظیم آئی ایچ ایچ کے مشترکہ کام کریں گے اور اس کی غرض تھر کے علاقوں میں مفت طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ اس موبائل ہیلتھ کلینک میں نہ صرف پرائمری ہیلتھ بلکہ سرجیکل ہیلتھ کی سہولیات بھی میسر ہونگیں اور روزانہ کی بنیاد پر سو مریضوں کی او پی ڈی ہو گی۔ اور ماہر ڈاکٹرز کی مدد سے تمام بیماریوں کا علاج کیا جائے گا۔ آئی ایچ ایچ کے ملکی ڈپٹی پروگرام منیجرقاسم ترکش نے اور بھی صحت کے حوالے سے سہانے خواب دیکھائے اس موقع پر بہت سے دوسرے ذمہ داران بھی موجود تھے۔
ایسے صحرائے تھر میں جہاں ہوائوں کے چلنے سے سبزے لہلہانے کے بجائے دھول اڑتی ہو اور بیماروں کو دوائوں اور غذائوں کے بجائے موت بنتی بٹتی ہو، ایسے یونٹ کا افتتاح واقعی بڑا خوش کن ہے لیکن اللہ سے دعا ہے کہ جس طرح آفت زدہ قرار دئیے جانے کے باوجود تھر کا طبی عملہ گھر بیٹھا تنخواہ وصول کرتا رہا تھا اب ایسا نہ ہو۔ اور ڈاکٹر عذرا پیچوہو کو خوفِ خدا آگیا ہو۔ ویسے بھی اب ان کے بھائی اندر ہیں اتنا خوف تو انہیں بھی آنا چاہیے۔
محکمہ جاتی افسران اور ذمہ داران کو احساس ہی نہیں کہ وہ کتنے حساس منصب پر براجمان ہیں؟ اور ان کی کیا ذمہ داریاں ہیں؟ توجہ دلانے کے خیال سے اگر آپ ان متعلقہ افراد سے ملاقات کرنے کا ارادہ کریں تو مصروفیت کی لمبی فہرست سامنے آئے گی اور ملاقات کے لیے انتظار کی صلیب پر لٹکنا ہو گا پھر اس کے بعد ملاقات ہو جائے تو بھی صاحب لوگ فون پر بہت ہی مصروف ہوتے ہیں اس لیے آپ کا پورا مدعا سننے کا وقت نہیں ہوتا ایسے میں کوئی کیا سمجھے اور کیا سمجھائے۔ لیکن معاملہ چاہے انفرادی ہو یا اجتماعی ہرہر پہلو پر غور و فکر اور عملدرآمد ضروری ہے اور یہ غور و فکر وسائل لگا کر ہو بھی جاتا ہے لیکن منصوبے اور پروگرام دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں مثلاً ابھی حال ہی میں ایک بڑے سروے کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ پاکستان میں تقریباً 4 کروڑ افراد آدھے سر کے درد میں مبتلا ہیں جو یقینا ایک بڑی تعداد ہے اس درد کے دوران مریض بہت بے چینی اور تکلیف محسوس کرتا ہے یقینا اس کے اسباب بھی معلوم کئے گئے ہونگے کیا ان کا سدباب کیا جائے گا؟
حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ہر محکمے میں کھلواڑ ہو رہا ہے اور ہم ابھی تک اپنے محکموں کو طریقے سے چلا نہیں پا رہے وہ وفاقی محکمے ہوں یا صوبائی حکومت کے ہوں یا نجی ادارے ہر طرف اور ہر ہر سطح پر نا اہلی نظر آتی ہے۔
ایک صاحب فہم و فراست نے کہا ہمارے ملک میں پولیس کے بعد سب سے زیادہ کرپٹ ادارے تعلیم وصحت ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارا تعلیمی بحران پوری دنیا میں ہمارا مذاق اڑا رہا ہے کہ امریکی تحقیقی ادارے ولسن سینٹر کے سروے کے مطابق پاکستان کے بہت سے بچے کئی سال تعلیم حاصل کرنے باوجود ایک فقرہ بھی درست نہیں پڑھ سکتے۔ حقیقت بھی اس سے قریب تر ہے۔ اور صحت اس کا تو کہنا ہی کیا ہے۔ آئے دن کوئی نہ کوئی حادثہ دل دھلا دیتا ہے۔ غلط انجکشن دینے یا بعد از معیاد ادویات کے استعمال سے مریض کی موت یا ذہنی و جسمانی نقصان کی اِکا دُکا خبریں تو آتی رہتی ہیں جنہیں ہم وقت کا پورا ہونے کا بہانہ یا قسمت کا لکھا کہہ کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔
لیکن ہمیں ہوش اس وقت آتا ہے جب مسلسل یکے بعد دیگرطبی حوالے سے اموات یا نقصانات سامنے آتے ہیں۔ یکے بعد دیگرے غلط انجکشن دینے سے ہونے والی اموات پھر پولیو کے قطرے پی کر ہلاک ہونے والے بچوں کا معاملہ ابھی حل نہ ہوا تھا کہ طب کی دنیا کی ایک اور نا اہلی ایل آر بی ٹی کے حوالے سے سامنے آکھڑی ہوئی۔
دیکھا جائے تو ابھی چند ماہ پہلے کورنگی کے ہی ایک اسپتال میں کئی بچے آکسیجن کا انتظام درست نہ ہونے کے سبب انتظامیہ کی غفلت کا شکار ہو کر والدین کو داغِ مفارقت دے چکے ہیں۔ آئے دن اسپتالوں ، نجی کلینکس پر غلط انجکشن و غلط ادویہ کی ترسیل کے سبب اموات کی خبریں معمول بنتی جا رہی ہیں۔
ایل آر بی ٹی ایک فلاحی ادارہ ہے جہاںجو نادار و غریب لوگوں کی بھی آنکھوں کا مفت علاج کرتا ہے۔ لیکن علاج چاہے غریب کا ہو یا امیر کا علاج ہی ہوتا ہے جس میں کسی بھی قسم کی غفلت نا قابل معافی ہوتی ہے۔ گزشتہ ماہ مذکورہ ادارے میں آپریشن کے بعد بیس افراد کا بینائی سے محروم ہو جانا ایک بڑا المیہ ہے۔ میری اطلاع کے مطابق جب ڈاکٹرز کو پریکٹس سرٹیفکیٹ دئیے جاتے ہیں تو ان سے جو وعدہ لیا جاتا ہے اس میں مریض کے ساتھ اخلاص کی شرط بھی رکھی گئی ہے چاہے کہ مریض دشمن ہی کیوں نہ ہو لیکن یہ مریض تو بیچارے مخالف بھی نہیں ہوتے۔ پھر ان کے ساتھ ایسا رویہ کیا سوالیہ نشان نہیں چھوڑتا؟ ہم بچپن سے سنتے چلے آئے ہیں آنکھیں بڑی نعمت ہیں گو کہ اللہ کی دی ہوئی کسی بھی نعمت کی نا قدری نہیں کرنی چاہیے لیکن کوئی نعمت جتنی بڑی ہوتی ہے اس کی اتنی ہی حفاظت مطلوب ہوتی ہے یہ کہ حفاظت کے نام پر یہ نعمت کا لٹ جائے۔ بینائی سے محرومی کا سبب یہ بتایا گیا ہے کہ آپریشن تھیٹر میں بیکٹریاز ہیں کیا آپریشن تھیٹر ایسی عام سی جگہ ہے کہ وہاں بیکٹریاز کو پھیلنے دیا جاتا؟ اگر پہلی ہی آنکھ کے خراب ہو جانے پر اپنی اصلاح کر لی جاتی تو مزید انیس آنکھیں بے نور ہونے سے بچائی جا سکتی تھیں لیکن ہم بحیثیت قوم غافل ہوتے جا رہے ہیں ہماری غفلت ایمان، عقائد، نظریات، فرائض سب پر غالب آ چکی ہے۔
ادارے، محکمے، وزیر، سفیر، افسران، ملازمین، ٹیچرز، ڈاکٹرز، جج، وکیل پیشہ ور افراد حد ہے کہ خاکروب تک سب غفلت کی نیند کے مزے لے رہے ہیں جس کے سبب خوشحالی اور فارغ البالی کے تمام منصوبے جو بڑے وسائل خرچ کر کے بنے ہوتے ہیں کہ کوئی نتیجہ پیدا نہیں کرتے جس کے سبب خیال دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں اور موت و معذوریاں مقدر ہو جاتی ہیں ایسی اخلاقی موت کے سبب ہمارے معاشرتی نظام میں ایسی ایسی خرابیاں آئی ہیں کہ تذکرہ کر کے شرم بھی آتی ہے اور افسوس بھی ہوتا ہے۔ اگرچہ صفائی (گلی کوچوں کی) کے ایم سی کی ذمہ داری ہے اور وہ اس سے نا بلد ہیں اسی طرح ہماری خواتین بھی صفائی سے نا واقف نظر آتی ہیں اس کا اندازہ آپ اپنے، اپنے پڑوس کے ڈسٹ بین سے لے کر ملک کے کسی بھی گوشے کو دیکھ کر بخوبی کر سکتے ہیں ۔
جہاں جس چیز پر خرابی پیدا کرنے کا شک ہو سکتا تھا اس کاتدارک کرنا تھا یا نہیں؟ لیکن ایک دو تین بیس بات شاید بہت کڑوی ہے لیکن ہے سچ اور سچ ہمیشہ ہی کڑوا ہوا کرتا ہے مفت علاج کرانے والوں نے کون سا ان کا کچھ بگاڑ لینا تھا۔ انہیں تو خود اپنے نان و جویں کے انتظام سے فرصت نہیں ملتی وہ بھلا کہاں اپنے اس نقصان پر قانون و عدالت کی بھول بھلیوں میں سر گرداں ہونگے لہٰذا جیسا چل رہا ہے چلنے دو، جو ہوتا ہے ہونے دو۔
ایک موقع پر آپ ؐ نے فرمایا ’’بے شک دین خیر خواہی ہے‘‘ آپ ؐ نے یہ بات تین مرتبہ فرمائی صحابہ نے عرض کیا کس سے خیر خواہی؟ فرمایا ’’اللہ سے، اس کی کتاب سے، اس کے رسولؐ سے، اہل ایمان کے آئمہ سے، اور عام لوگوں سے چونکہ یہاں عام لوگوں سے خیر خواہی مقصود ہے جس کا حکم رد کردیا گیا ہے عام افراد سے خیر خواہی کا مفہوم یہ ہے کہ انہیں ان امور کی دعوت دی جائے جس میں ان کے لیے خیر ہو۔ ناداروں کی مالی امداد اور انہیں ضرر سے بچانا فائدہ پہنچانے کی کوشش کرنا وغیرہ حدیث کے اس حصے میں جو بات سمجھائی گئی وہ بلا امتیاز معاشرے کے تمام افراد کے لیے ہے۔ لیکن معاشرے میں مناصب کے حامل افراد کے لئے اس میں خاص کر ہدایات ملتی ہیں۔
ایک ڈاکٹر اور اس کے ما تحت افراد جس منصب پر ہوتے ہیں اس کا تعلق محض انسان کی صحت ہی سے نہیں بلکہ جان کی بقا سے جو زندگی کا ایک اہم رُخ ہے۔ ایسے ذمہ دار افراد کی غلطیوں کوتاہیوں پر اگر تنبیہ و احتساب نہ کیا جائے تو دوسرے انسان کے معاشرتی حقوق عدم تحفظ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ دیکھا جائے تو ڈاکٹر اور اس کے پورے عملے کو مریض پر پورا اختیار حاصل ہوتا ہے ایسے میں مذہب ہمیشہ نرمی، آسانی رعایت کا درس دیتا ہے کیونکہ وہ اپنے اختیار سے چاہیں تو سختی بھی کر سکتے ہیں اور چاہیں تو نرمی کا پہلو اختیار کر کے مریض کے لئے باعث راحت و سکون بھی بن سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں آپ ؐ نے وضاحت سے دعا فرمائی ’’اے اللہ جس کو میری امت میں کسی کام کا اختیار ملے اور وہ لوگوں پر نرمی کرے تو تو بھی اس پر نرمی فرما:‘‘ اگر مناصب پر موجود عوام الناس کو سہولت فراہم کرینگے تو نبی ؐ کی دُعا کے مستحق ہونگے گویا مناصب اور تعلیم کو محض دولت کے حصول کے لئے استعمال نہ کریں بلکہ مذہبی اور اخلاقی فریضہ سمجھ کر ادا کریں۔
طب کا پیشہ ہمیشہ ہی حساس پیشہ تصور کیا گیا ہے احساس ذمہ داری عقل و علم کو پکارتی ہے اور انہیں کام میں لاتی ہے اور بہت سی جگہوں پر احتیاط و پرہیز کی تاکید بھی کرتی ہے لیکن محسوس یوں ہو رہا ہے کہ بحیثیت امت بحیثیت قوم، ہمارا احساس ذمہ داری بتدریج زول پذیر ہے بچوں میں ذمہ داری کا احساس بچپن ہی سے اجاگر کیا جانا چاہیے جو والدین اور اساتذہ کی ذمہ داری ہے لیکن ہم میں سے ہر دو یہ ذمہ داری دوسرے پر ڈال کر خود بری الذمہ ہونا چاہتا ہے کیونکہ آج کا بچہ کل کا جوان، اور آج کا جوان کل بچہ رہا ہو گا۔ اس وقت ان کی تربیت میں احساس ذمہ داری کو وہ حیثیت نہ دی گئی جو آج ان کے پیشے کا تقاضا ہے۔ غفلت نے نہ جانے کتنے بچوں کو والدین سے جدا کر دیا۔ کتنے گھروں کی خوشیوں کو نگل لیا۔ کتنوں کو آپاہج و معذور کر کے چھوڑ دیا۔ یہ درست ہے کہ ایک طبی عملہ ہی کیا معاشرے کا ہر طبقہ انحطاط اور فساد کی دلدل میں دھنس رہا ہے لیکن اگر واقعی پیش نظر انسانیت کی بھلائی ہو تو اصلاح احوال کے لئے اصلاح فرد بہت ضروری ہے ہم میں سے ہر فرد اپنی ذمہ داری کو کما حقہ پوری کرنے کی سعی کرے تو قوم یقینا ایسے دلخراش حادثات سے بچ سکتی ہے۔