کشمیر کی بھارت کی غلامی سے آزادی: آج وگرنہ کبھی نہیں

95

غلام نبی بٹ
جماعت اسلامی کے ہزاروں کارکن تحریک جہاد میں شریک ہوئے اور مقبوضہ کشمیر کے قبرستان ان مجاہدین کی قبروں سے پر ہیں اس تحریک جہاد میں بھرپور شرکت کے بعد لا تعداد مجاہدین غازی بن کر گھروں کولٹے ان میں متعدد کتابوں کے مصنف اور عظیم اسکالر اور دانشور سید سلیم گردیزی معروف کالم نگار اور صاحب طرز ادیب معلم قوم ڈاکٹر راجا عبد الکریم‘ معروف معالج آصف انصاری‘ بھارتی فوجوں کو ناکوں چنے چبوانے والا عظیم کمانڈر سید ارشد بخاری المعروف شمشیر خان اور پروفیسر الف الدین ترابی کا فرزند ساجد ترابی و غیرہ شامل ہیں جبکہ جماعت اسلامی کے اپنے کارکنوں کے علاوہ قائدین جماعت اسلامی کے لا تعداد عزیر و اقارب اس تحریک جہاد میں شریک ہو کر جام شہادت نوش کر چکے ہیں جن میں سابق امیر جماعت اسلامی پاکستان قاضی حسین احمد مرحوم کے بھانجے نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان محترم لیاقت بلوچ کے دو بھانجے اسسٹنٹ سیکرٹری پاکستان صفدر علی چودھری کا فرزند سابق امیر جماعت اسلامی آزاد کشمیر کونسل محمد رشید عبسائی مرحوم کے بھیجتے پروفیسر الف الدین ترابی مرحوم کا بھتیجا بطور مثال شامل ہیں لیکن حیران کن بات تو یہ ہے کہ پاکستان اور آزاد کشمیر کی کسی بھی دوسری سیاسی اور دینی طلبہ تنظیم کا اس تحریک جہاد میں قطعاً کوئی حصہ نہیں اس لیے یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس طرح کے نام نہاد اور مفاد پرست اس تحریک میں جان قربان کرنا تو کجا ان کی یا ان کے قائدین کی نکسیر بھی نہیں پھوٹی۔ بہرحال اس تایخی حقیقت کو مقبوضہ کشمیر کے مسلمان بخوبی جانتے ہیں اور وہ نام نہاد ان قائدین کے دوغلے پن سے بخوبی آگاہ ہیں۔
جہاں تک جلسے جلوسوں اور مظاہروں کا تعلق ہے اس کی کسی حد تک ضرورت ہو سکتی ہے مگر تاریخ کی ورق گردانی کی جائے تو بخوبی آگاہی ہوتی ہے کہ جن ممالک نے اپنے اپنے سامراجی آقائوں سے آزادی حاصل کی انہوں نے اس طرح کے جلسے اور جلوسوں اور قرارداوں کا سہارا نہیں لیا بلکہ آزادی حاصل کرنے کے لیے لاکھوں جانوں کی قربانی دی بطور مثال الجرائر‘ سوڈان‘ ویتنام‘ افغانستان شامل ہیں کیا ان ممالک کے لوگوں نے جلسے جلوسوں مظاہروں اور ریلیوں اور مذاکرات کا سہارا لیا۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ کشمیر کے مسئلہ کے حوالہ سے کوئی دوسرا ملک پاکستان کے ساتھ کھڑا نہیں۔ عملاً سب امریکا اور بھارت کے زر خرید اور فکری غلام ہیں او آئی سی بھی زبانی جمع خرچ کر رہا ہے چین اگرچہ ہمارے ساتھ ضرور ہے مگر وہ بھی کسی حد تک؟ اس کے بھی خطہ میں اپنے مفادات ہو سکتے ہیں اب لے دیکر مقبوضہ کشمیر کے مظلوم و مقہور مسلمان ہر طرف سے مایوس ہو کر پاکستان اور پاکستان کی بہادر افواج پر بھروسا کیے ہوئے ہیں لیکن پاکستان بھی غالباً امریکا کے دبائو میں آ کر کوئی فوجی کارروائی نہیں کر سکتا پاکستان کی بھی اپنی مجبوریاں ہیں دونوں ممالک کے درمیان جنگ تب ہی ممکن ہے جب بھارت پاکستان پر حملہ کر لے۔ ایٹمی ہتھیاروں کا استعمال تب ہی شامل تصور ہے جب دونوں ممالک کے درمیان جنگ چھڑ جائے لیکن ہم کو جنگ کرنی ہی نہیں صرف ایٹمی جنگ کی دھمکی ہی دینی ہے اس کا یہی مطلب لیا جائے گا کہ پاکستان سے اور کچھ تو نہیں ہو سکتا صرف آئے روز ایٹمی جنگ کی دھمکی دیتا رہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ بھارت جیسے سازشی اور مکار ہمسایہ سے کسی بھی وقت دراندازی اور دہشت گردی متوقع ہے اس لیے حکومت پاکستان کو فوری طور پر پورے ملک میں عام لام بندی کا اعلان کرنا چاہیے اور ملک کے تمام نوجوانوں اور تمام طلبہ و طالبات کی فوجی تربیت کا اعلان کرنا چاہیے نیز سرحدی اور ایل او سی کے علاقوں پر رہنے والوں کو فوری طور پر اسلحہ فراہم کرنا چاہیے ساتھ ہی تما م ریٹائرڈ فوجیوں کو حاضر سروس کیا جائے۔ بھارت سے مذاکرات کی بھیک مانگنی نہیں چاہیے۔
بہر حال ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مقبوضہ کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کی کوئی غیبی امداد فرمائے اور ان کو بھارت کے چنگل سے آزادی دلوانے کی کوئی سبیل پیدا کرے مگر ان کی مدد کی کوئی دوسری صورت نظر نہیں آتی ہماری یہ بھی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے حکمرانوں کو بصیرت اور حکمت کی دولت عطا فرمائے۔