جدہ: او آئی سی کونسل برائے وزرائے خارجہ کا غیرمعمولی اجلاس

124

جدہ (سید مسرت خلیل) اسلامی تعاون تنظیم کی کونسل برائے وزرائے خارجہ (سی ایف ایم) کا 16 واں غیر معمولی اجلاس 15 ستمبر 2019ء کو او آئی سی سیکرٹریٹ جدہ میں ہوا۔ اجلاس او آئی سی نے سعودی عرب کی درخواست پر طلب کیا۔ اس اجلاس کا ایجنڈا اسرائیلی وزیر اعظم کے اس بیان پر تبادلہ خیال کرنا تھا کہ انتخابات میں فتح حاصل کرنے کی صورت میں وہ مقبوضہ مغربی کنارے میں علاقوں کو الحاق کرنے ارادہ رکھتے ہیں۔ پاکستان قونصلیٹ جدہ کے مطابق شفقت محمود نے کہا کہ اسرائیلی یکطرفہ اعلان، اقوام متحدہ سیکورٹی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور بین الاقوامی قوانین کے اصولوں کی خلاف ورزی، ایک خطرناک رجحان اور بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پہلے سے کشیدہ صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دے گا اور خطے کو غیر مستحکم کرے گا۔ انہوں نے او آئی سی ارکان ، اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ فلسطین اور القدس الشریف کے عوام کے ساتھ اپنی ذمے داری کو سمجھیں اور نبھائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ اور او آئی سی ارکان کو انتخابی مہم میں پارٹی نعرے کے طور پر استعمال ہونے والے اس طرح کے غیر ذمے دارانہ اعلانات کی مذمت کرنی چاہیے جو خطے میں امن کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ فلسطین اور کشمیر کے عوام میں بہت سی چیزیں مشترک ہیں۔ دونوں نے 7 دہائیوں سے قبضے کی تاریخ شیئر کی ہے۔ بین الاقوامی قانون کے تحت ان کے حق خودارادیت کو پامال کیا جارہا ہے۔ ان دونوں کو اجتماعی سزا ، ریاستی دہشت گردی اور ناقابل بیان مصائب کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ انکے جائز حقوق کی جدوجہد کو دہشتگردی کا نام دے کر اسرائیل اور ہندوستان نے جبر کے ذریعے دنیا کی توجہ ہٹانے کی کوشش کی۔ ان کے بنیادی حقوق اور آزادیوں کو پامال کیا گیا 5اگست 2019ء سے کشمیری عوام کو ایک بڑے قید خانہ میں بند کردیا گیا ہے ، ان کے ٹیلیفون اور مواصلات بند کردیے گئے ہیں ، ان کے بچوں کو رات کے وقت گھروں سے اغوا کیا گیا اور انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا ، ان کے سیاسی رہنماؤں کو گرفتار کیا گیا اور انہیں جیل میں ڈالا گیا۔ صحت اور زندگی بچانے والی ادویات تک انکی رسائی ناممکن بنا دی گئی۔ سری نگر اور بھارتی مقبوضہ کشمیر کے دیگر حصوں میں مسلمانوں کو عید الاضحی کی نماز کی ادائیگی سے روک دیا گیا۔ ہم انسانی حقوق کونسل میں او آئی سی ممالک کے تعاون پر ان کے مشکور ہیں۔ ہم او آئی سی کے سیکرٹری جنرل اور آزاد انسانی حقوق کا کشمیری عوام کے لیے یکجہتی اور حمایت کے مستقل پیغامات پر شکریہ ادا کرتے ہیں۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کو او آئی سی ممالک سے توقعات اور امیدیں ہیں۔ ان کی جدوجہد انصاف پر مبنی ہے۔ ان کے حقوق، وقار اور جانوں کا تحفظ کرنا ہوگا۔ ہم اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے ذریعے کشمیری عوام کے لیے آپ کی سیاسی اور سفارتی حمایت اور تنازع کشمیر کے حل کے منتظر ہیں۔ وفاقی وزیر نے پاکستان کے اس اصولی مؤقف کا اعادہ کیا کہ مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام لانے کے لیے 1967ء میں بین الاقوامی سطح پر متفقہ پیرامیٹرز اور القدس الشریف بطور فلسطینی ریاست کے دارالحکومت ، ایک قابل عمل اور آزاد ریاست فلسطین کے قیام کا واحد راستہ ہے۔