سودی بینکاری کے خاتمے کی راہ میں بیورو کریسی رکاوٹ بنی،قبلہ ایاز

142

لاہور(نمائندہ جسارت) اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین قبلہ ایاز نے کہاہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کے نتیجے میں قانون سازی کے عمل میں اصل رکاوٹ بیوروکریسی ہے ۔ اسلامی نظریاتی کونسل ایک آئینی ادارہ ہے اور اس کا دائرہ کار قرآن و سنت کی روشنی میں قوانین کے نفاذ کی سفارشات تیار کر کے دینا ہے جبکہ قانون نافذ کرنا صرف پارلیمنٹ کا کام ہے ۔ ہمارے انتخابی عمل میں نقائص کی وجہ سے اکثریت ایسے لوگوں کی آ جاتی ہے جن میں اسلامی قانون سازی کے لیے کمٹمنٹ موجود نہیں ہوتی جس کی سب سے بڑی مثال بلاسود بینکاری کی ہے حالانکہ سود کی تعریف پر مکمل اتفاق ہوگیاتھا جسے عدالت نے بھی تسلیم کرلیا تھا لیکن بیوروکریسی کے آڑ ے آ جانے سے یہ مسئلہ حل نہیں ہوسکا۔ ان خیالات کااظہار انہوںنے منصورہ میں ادارہ معارف اسلامی کے زیراہتمام ’’ اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات پر عملدرآمد میں رکاوٹیں اور ان کا حل ‘‘ کے موضوع پر منعقدہ علمی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ سیمینار سے جماعت اسلامی پاکستان کے سیکرٹری جنرل امیر العظیم ، سابق نائب امیر حافظ محمد ادریس ،شیخ القرآن و الحدیث مولانا عبدالمالک ، ڈائریکٹر ادارہ معارف اسلامی حافظ ساجد انور ، ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی اور محمد انور گوندل نے بھی خطاب کیا ۔ اس موقع پرامیر جماعت اسلامی وسطی پنجاب محمد جاوید قصوری ، ڈپٹی سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی اظہر اقبال حسن ، امیر جماعت ا سلامی لاہور ذکر اللہ مجاہد بھی موجود تھے ۔قبلہ ایاز نے کہاکہ اسلامی نظریاتی کونسل پر یشر ڈالنے والا ادارہ نہیں ہے ۔اس ادارے کا کام مشاورت کا ہے جبکہ بائنڈنگ کا کام پارلیمنٹ کا ہے ۔ انہوںنے کہاکہ ہم 1973 ء کا آئین بنانے والوں کے ممنون احسان ہیں کہ انہوں نے ایسا آئینی ڈھانچہ تشکیل دیا کہ اسلامیان پاکستان تشدد ، زبردستی کا راستہ اختیار نہیں کر سکتے ، آج صومالیہ جو کہ ایک اسلامی ملک ہے ، لیکن دستوری ڈھانچہ نہ ہونے کی وجہ سے وہ انتشار کا شکار ہے۔ انہوںنے کہاکہ میڈیا کے ضابطہ اخلاق کے بارے میں بھی اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات موجود ہیں۔سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان امیر العظیم نے منصورہ آمد پرقبلہ ایاز کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ جماعت اسلامی اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور ان سفارشات کی منظوری کے لیے پارلیمنٹ اور پارلیمنٹ سے باہر آئینی و جمہوری جدوجہد کے ذریعے حکومت پر دبائو بڑھاتی رہے گی ۔ سابق رکن اسلامی نظریاتی کونسل ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ سیکولر ، لبرل لابی نے جو عورت مخالف تصور اپنایا ہوا تھا ، الحمدللہ اسلامی نظریاتی کونسل کے پلیٹ فارم سے ان قوتوں کا پروپیگنڈا زائل ہوا ۔ انہوںنے کہاکہ پیغام پاکستان کی دستاویزات میں جو غیر اسلامی قانون ہوں گے وہ اسلامی نظریاتی کونسل کو بھجوائے جائیں گے ۔ڈائریکٹر ادارہ معارف اسلامی حافظ محمد ساجد انور نے اپنے خطاب میں کہاکہ پاکستان جو کلمہ طیبہ کی بنیاد پر حاصل ہوا ہے ، ہمیں اسلامی جدوجہد اور اسلامی راستے کاتعین کر کے ملک میں قرآن و سنت کا نفاذ کرنا ہے ۔سابق ڈائریکٹر ادارہ معارف اسلامی حافظ محمد ادریس نے کہاکہ حکومت اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کی روشنی میں قوانین بنائے تاکہ پاکستان کا اسلامی فلاحی ریاست کا خواب شرمندہ تعبیر ہوسکے ۔شیخ القرآن و الحدیث مولانا عبدالمالک نے پروگرام کے آخر میں دعا کرائی ۔