ایسے دور سے گزر رہے ہیں جس میں حقائق تخلیق کیے جارہے ہیں، چیف جسٹس

52

لاہور(نمائندہ جسارت) چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا ہے کہ آج ہم ایک ایسے دور سے گزر رہے ہیں جس میں حقائق تخلیق کیے جارہے ہیں۔لاہور میں ایک کتاب کی تقریبِ رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان کا کہنا تھا کہ آنے والا دور انہی مصنوعی اور تخلیق کردہ واقعات کو بطور تاریخ دیکھے گا۔انہوں نے کہا کہ آج کے وکلاء اپنا کیس ذہن اور زبان سے پیش کرنے کے بجائے لاتوں اور گھونسوں سے پیش کر رہے ہیں، ماڈل کورٹس میں انہی ججوں اور وکلاء کے ذریعے 13 ہزار کیسز کے فیصلے 4 ماہ میں ہوئے ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ایس ایم ظفر سب کیلیے آئیڈیل شخصیت ہیں۔ تاریخ صرف واقعات کوبیان کرنے کا نام نہیں ہے، یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ تاریخ بنی کیسے؟ جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ ہم اس وقت کیسز کی کوالٹی پر نہیں بلکہ نمبرز پر یقین کررہے ہیں، 99 فیصد لوگوں نے ہمارے فیصلے نہیں پڑھے ہوتے۔انہوں نے کہا کہ ہم کبھی امید نہیں چھوڑسکتے، یہی ہمارا ملک ہے اور ہم نے یہاں ہی رہنا ہے، ہم نے حقیقت پسند بننا ہے، آنکھیں بند نہیں کرنی۔
چیف جسٹس