کل پاکستان اجتماع عام جماعت اسلامی پاکستان(باب یازدہم)

131

عورت کی قیادت اور جماعت اسلامی کا موقف
سرکاری مسلم لیگ کے لیڈروں ‘ ان کے کاسہ لیسوں اور پروردہ علمائے سو نے اس بارے میں پراپیگنڈا کیا اور سرکاری ریڈیو‘ ٹی وی اور مقبوضہ پریس کے ذریعے اور جلسے جلوسوں میں اس بات کو بہت اچھالا گیا کہ اسلام میں عورت کا سربراہ مملکت ہونا غیر اسلامی ہے۔
مولانا مودودیؒ نے اپنی تقریر میں اور متحدہ محاذ کے پلیٹ فارم پر انتخابی جلسوں میں جماعت اسلامی کے اس اجتہادی اقدام کی توضیح کرتے ہوئے کہا کہ: ’’مجبوری کی حالت میں جب اس کے سوا کوئی اور چارہ کار نہ ہو تو بڑی برائی کے مقابلے میں چھوٹی خامی کو قبول کرنا ہوگا۔ اس صورت میں اس کے سوا کوئی راستہ باقی نہیں رہ جاتا کہ خاتون امیدوار کی حمایت کی جائے اور یہی وجہ ہے کہ جماعت اسلامی محترمہ فاطمہ جناح کی حمایت کررہی ہے۔ (۲۴) ۲۲؍ اکتوبر ۱۹۶۴ء کو حکومت نے نیا الیکشن کمیشن قائم کیا۔ ایوب خان نے انتخابات کے دوران نگراں حکومت کے قیام کا مطالبہ مستر دکردیا اور اپنے انتخابی جلسوں میں عورت کو صدارتی امیدوار بنانے کے اقدام کو غیراسلامی قرار دیتے ہوئے اسے ہدف تنقید بنایا‘ اپنی حکومت کو اسلامی قرار دیا اور جماعت اسلامی اور مولانا مودودیؒ پر سخت تنقید کی۔ پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلا موقع تھا کہ عام جلسوں میں کسی عالم دین پر تنقید کی گئی۔
انتخابی مہم کے دوران پاکستان کے سابق گورنر جنرل اور وزیراعظم خواجہ ناظم الدین حرکت قلب بند ہونے سے انتقال کرگئے۔ ایوب خان کی آمریت کے خلاف مرحوم بہت فعال کردار ادا کررہے تھے اور محترمہ فاطمہ جناح کو انتخاب لڑنے پر آمادہ کرنے میں ان کااہم کردار تھا۔ مغربی پاکستان میں بنیادی جمہوریتوں کے انتخابات ۸؍ نومبر کو اور مشرقی پاکستان میں ۱۹؍ نومبر ۱۹۶۴ء کومنعقد ہوئے۔ ۲۳؍ نومبر ۱۹۶۴ء کو ایوب خاں نے بطور صدارتی امیدوار اپنے کاغذات نامزدگی داخل کیے۔ اس سے پہلے ۸؍ نومبر کو ایک نوٹیفکیشن جاری کیا گیا کہ صدر محمد ایوب خان ۱۶؍ فروری ۱۹۶۰ء سے فوجی ملازمت سے سبکدوش کردیے گئے ہیں۔ واضح رہے کہ اسی تاریخ کو الیکشن کمیشن نے انہیں پہلے نام نہاد اور بلامقابلہ صدارتی انتخابات میں کامیاب قرار دیا تھا اور اب وہ دوسرا صدارتی انتخاب لڑ رہے تھے۔۲۷؍ نومبر ۱۹۶۴ء تک ایوب خان اور محترمہ فاطمہ جناح سمیت سات صدارتی امیدواروں نے کاغذات نامزدگی داخل کیے۔ جن میں تین وزراء مسٹر محمد شعیب‘ مسٹر ذوالفقار علی بھٹو اور صبور خان شامل تھے۔ بعد میں انھوں نے اپنے نام واپس لے لیے۔ میاں بشیر احمد اور کے ایم کمال آزاد امیدوار تھے۔
دھاندلیوں کی انتہا
بنیادی جمہوریتوں کے اراکین کے انتخابات میں حکومت نے بے تحاشا دھاندلیاں کیں‘ کیونکہ ان ہی ارکان کے ذریعے صدارتی امیدوار کو چننا تھا۔ ان انتخابات میں ۱۹۵۸ء کے انتخابی قواعد کو یک لخت ختم کردیا گیا۔ فہرستوں کی تیاری اور حد بندیوں میں جعل سازی کی گئی۔ جعلی ووٹروں اور غنڈوں کے ذریعے ہر قسم کے ناجائز اور غیر قانونی ہتھکنڈے اختیار کیے گئے۔
صدارتی انتخاب
پہلے صدارتی انتخاب کے لیے مارچ ۱۹۶۵ء کا مہینہ تجویز کیا گیا تھا‘ لیکن ایوب خان کے وزراء کے مشورے پر ۲ ؍جنوری ۱۹۶۵ء کو صدارتی انتخاب کی تاریخ متعین کردی گئی۔ انتخابات سے پہلے ہی حکومتی کارندوں نے بنیادی جمہوریتوں کے بے شمار اراکین کو اغوا کرلیا۔ دھونس دھاندلی‘ رشوت اور دیگر ہتھکنڈوں کے ذریعے انتخابی ادارے پر جو ان ہی اراکین پر مشتمل تھا‘ براہ راست اثر انداز ہوگیا۔ پولیس اور انتظامیہ نے کھلم کھلا مداخلت کی۔ ابلاغ کے ذرائع حکومت نے اپنے ہاتھ میں لے رکھے تھے‘ حزب اختلاف کی آواز پر پابندیاں عائد تھیں۔ ریڈیو اور ٹی وی پر متحدہ حزب اختلاف کو بہت کم وقت دیا گیا۔ عورت ہونے کے ناتے ان پر مذہبی نقطہ نگاہ سے بے پناہ تنقید کی گئی۔ حزب اختلاف نے بھی اپنے انتخابی جلسوں میں بنیادی جمہوریتوں کے نظام کو ختم کرکے بالغ رائے دہی کے نظام کو رائج کرنے کا کھل کر عندیہ دیا۔
کھلی دھاندلیوں‘ سرکاری مشنری کے بے دریغ استعمال‘ نومنتخب اراکین بنیادی جمہوریت کے تحفظ کے باوجود محترمہ فاطمہ جناح کو ۲۸ ہزار سے زیادہ ووٹ ملے‘ جبکہ ایوب خان کو پچاس ہزار ووٹ ملے اور انہیں کامیاب قرار دیا گیا۔ محترمہ فاطمہ جناح کو زیادہ ووٹ مشرقی پاکستان سے ملے۔ مغربی پاکستان میں انہیں صرف کراچی سے کامیابی حاصل ہوئی۔ کتنے ہی بی ڈی ممبر محترمہ فاطمہ جناح کے نام پرووٹ لے کر کامیاب ہوئے تھے‘ لیکن بعد میں انہوں نے اپنے ووٹوں کا سودا کرلیا۔
کراچی سے ایوب خان کی شکست کابدلہ لینے کے لیے ایوب خان کے فرزند کیپٹن گوہر ایوب خان نے‘ جو انتخابات سے پہلے ایک پوری ٹرین میں ہزارہ سے جرائم پیشہ غنڈوں اور مسلح کارکنوں کی ایک فوج ظفر موج لے کر کراچی آئے تھے‘ ۴؍ جنوری ۱۹۶۵ء کو کراچی میں ایوب خان کی فتح کا جشن منانے کے لیے ایک جلوس نکالا‘ جو مختلف علاقوں سے گزرا۔اس جلوس نے لوٹ مار اور مکانوں اور دکانوں کو آگ لگائی۔ خاص طورپر ان کا نشانہ لیاقت آباد اور اس کے قرب و جوار میں گُجر نالہ اور دیگر علاقے تھے‘ جہاں ان کے مسلح غنڈوں نے پولیس کی حفاظت میں لوٹ مار کا بازار گرم کرکے پولیس کی حفاظت میں واپس ہوگئے۔ سرکاری پریس نوٹ کے مطابق فساد میں ۶ افراد ہلاک ہوئے۔ حزب اختلاف نے ایک بیان جاری کیا جس میںکہا گیا تھاکہ مختلف جگہوں پر جلوس کے شرکاء نے پولیس کی حفاظت میں نہتے شہریوں کو گولی مارکر ہلاک کیا اور کراچی کے علاقے خصوصاً لیاقت آباد سے ایوب خان کی شکست کا بدلہ لیا۔ اگرچہ ایوب خان اور ان کے حواریوں نے مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کو اپنے آمرانہ اور شاطرانہ ہتھکنڈوں سے ہرا تو دیا‘ لیکن اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ ملک میں آمریت کی جڑیں ہل گئیں۔ پوری قوم بیدار ہوگئی اور ایوب خان کاسارا رعب اور دبدبہ ہوا میں تحلیل ہوگیا۔
(جاری ہے)