شہر میںمکھی مچھروںکاراج ،ڈینگی متاثرین کی تعداد1800سے متجاوز

41

کراچی (اسٹاف رپورٹر) کراچی سمیت سندھ بھر میں اس سال اب تک ڈینگی وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 1841 ہوگئی ہے۔ ترجمان انسداد ڈینگی سیل کے مطابق ان کیسز میں سے1760 کا تعلق صرف کراچی سے ہے۔ ترجمان کے مطابق رواں سال ڈینگی سے ہلاکتوں کی تعداد 8 ہوچکی ہے۔ ماہرین طب کا کہنا ہے کہ لوگ اپنے گھر، گلی اور محلے میں پانی کھڑا نہ ہونے دیں اور صفائی ستھرائی کا خاص خیال رکھیں۔ طلو ع اور غروب آفتاب کے وقت جسم کو مکمل طور پر ڈھانپ کر رکھیں۔ دوسری جانب کراچی شہر کے 90فی صد علاقوں میں حکومت سندھ کی وزارت بلدیات، شہری بلدیاتی اداروں اور کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے بڑے بڑے دعوؤں کے برعکس جا بہ جا کچرے کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں اور ان کی صفائی کا کوئی انتظام نہیں کیا گیا جب کہ کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کی جانب سے جاری کردہ یومیہ بنیادوں پر پریس ریلیز سے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شہر مکمل صاف ہو چکا ہے اور یہاں کے تمام سیوریج کے مسائل حل ہو چکے ہیں لیکن اس کے برعکس عملاً صورت حال یہ ہے کہ شہر کا 90فی صد حصہ ایسا ہے کہ جہاں گٹر کا ابلتا ہوا گندا پانی گلیوں، بازاروں، محلوں یہاں تک کہ مرکزی شاہراہوں پر بہہ رہا ہے جس کی وجہ سے حشرات الارض کی افزائش و پرورش میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے اور طبی ماہرین کے مطابق ملیریا، ڈائریا، گیسٹرو ٹائی فائیڈ، گلے، پھیپھڑوں، پیٹ، سانس اور خارش کے امراض سمیت دیگر امراض بھی بڑھ رہے ہیں اور مچھروں، مکھیوں اور دیگر جراثیم پھیلانے والے کیڑے مکوڑے چکن گنیا اور ڈینگی جیسی بیماریاں پھیلانے کا سبب بن رہے ہیں۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ جراثیم کش ادویات کے چھڑکاؤ کی مہم میں تیزی لانے کی ضرورت ہے۔ رینگنے والے کیڑوں کی بہتات کی اصل وجہ شہر میں جمع شدہ کچرا اور سیوریج کا بہتا گندا پانی ہے، اس گندے پانی کے رساؤ اور کچرے کے انبار کی وجہ سے طرح طرح کے کیڑے پرورش پا رہے ہیں، ان کیڑوں کی وجہ سے بھی شہر میں طرح طرح کی بیماریاں پھیل رہی ہیں، بالخصوص کچرا کنڈیوں کے نزدیک رہنے والے موذی نوعیت کی خارش کی شکایت کر رہے ہیں۔