ہیڈماسٹروںکومستقل نہ کرنا سینئراساتذہ سے ناانصافی ہے،ممتازسہتو

52

کراچی( اسٹاف رپورٹر) جماعت اسلامی سندھ کے نائب امیر ممتاز حسین سہتو نے سندھ حکومت کی تعلیمی پالیسی کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ 150سے زائد ہیڈماسٹرز کو ریگولر نہ کرنا تعلیمی شعبے سے وابستہ سینئر اساتذہ کے ساتھ ظلم ہے جبکہ 2015ء میں آئی بی کے ذریعے ان سے ٹیسٹ بھی لیا گیااور امیدواروں کا شعبہ تعلیم میں تقرر بھی کیا گیا لیکن اب حکومت میرٹ کو پامال کرکے اساتذہ کو نوکریوں سے فارغ کررہی ہے، حکومت کے اس بے رحمانہ اقدام سے ہزاروں خاندان متاثر ہوںگے ۔ انہوں نے ایک بیان میں مزید کہا کہ بیروزگاری اور مہنگائی کے دور میں اس طرح کی ظالمانہ پالیسی سے کئی گھرانے فاقہ کشی کا شکار ہوجائیں گے، سندھ حکومت کا یہ قدم میرٹ کی دھجیاں اڑانے کے مترادف ہے، لوگ اپنے حقوق کیلیے تنگ ہوکر جب کراچی پریس کلب کے باہر احتجاجی دھرنے دیتے یا وزیراعلیٰ ہائوس کی طرف مارچ کرتے ہیں تب ان پر ریاستی طاقت کے ذریعے تشدد کیا جاتا ہے ، استاد قوم کا معمار ہوتا ہے جسے عزت کے ساتھ جینے کا حق دیا جائے،یہ استاد ہی ہیں جو کڑی دھوپ، طوفانی بارشوں اور ہر طرح کی سہولتوں سے عاری اسکولوں میں قوم کے بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کیلیے تکالیف برداشت کرتے ہیں ،سندھ حکومت ایک طرف سندھ کے حقوق کی بات کرتی ہے تو دوسری جانب سندھ کے اساتذہ کو تنگ اور تعلیم دشمنی پالیسیوں پر عمل کرکے کس کی خدمت کررہی ہے، انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ 150اساتذہ کو فوری طور پر تمام قانونی تقاضے پورا کرتے ہوئے ریگولر کیا جائے تاکہ ہزاروں خاندانوں کی بے چینی ختم ہوسکے۔