حکمران جماعتیں مسائل حل کرنے کے بجائے بیان بازیوں میں مصروف ہیں، حافظ نعیم

80

 

کراچی (اسٹاف رپورٹر) امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہحکمران پارٹیوں اور حکومتوں کے وعدے و دعوے اور بیانات تو مسلسل جاری ہیں لیکن کراچی کے عوام کے مسائل حل ہورہے ہیں نہ حالات تبدیل ہو رہے ہیں ۔ وفاقی حکومت نے کمیٹی بنا دی ، کمیٹی کے سربراہ اور ایم کیو ایم سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر نے آرٹیکل 149کے نفاذ کا شوشہ چھوڑ کر ایک نئی آئینی بحث چھیڑ دی ۔ وزیر اعظم عمران خان بھی محض اعلانات ہی کررہے ہیں
اور کراچی کے لیے کوئی رقم جاری نہیں کی گئی ، کراچی کے عوام کو امید تھی کہ وزیر اعظم کراچی کے دورے کے دوران کراچی کے لیے کوئی عملی اور ٹھوس اقدامات بروئے کار لائیں گے مگر ان کا دورہ کراچی ہی ملتوی ہو گیا جس سے عوام کو مایوسی ہوئی ۔ وفاقی حکومت کی کمیٹی کی بھی کوئی سرگرمی سامنے نہیں آئی ہے اور بعض لوگ تو اس کمیٹی کے مینڈیٹ پر بھی سوال اُٹھا رہے ہیں۔صوبائی حکومت اور بلدیاتی حکومت کی نا اہلی اور نا قص کارکردگی بھی سب کے سامنے ہے ۔ صرف زبانی جمع خرچ اور اعلانات کیے جا رہے ہیں لیکن کراچی کے شہری مسلسل مسائل اور مشکلات کا شکار ہیں جگہ جگہ گٹر ابل رہے ہیں کچرے کے ڈھیر جمع ہیں سڑکوں پرگڑھے بن گئے ہیں۔ ٹرانسپورٹ کا کوئی موثر نظام شہر میں موجود نہیں اور لاکھوں شہری روزانہ انتہائی کرب اور اذیت کے ساتھ سفر کرنے پر مجبور ہیں گرین لائن اور اورنج لائن منصوبے مسلسل تاخیر کا شکار ہیں وفاقی اور صوبائی حکومت کو سب سے زیادہ ریوینیودینے والے شہر اور اس کے ڈھائی کروڑ عوام کے ساتھ مسلسل زیادتی و نا انصافی اور امتیازی سلوک کا رویہ رکھا جا رہا ہے اور شہریوں کا کوئی پُر سان ِ حال نہیں ایسا محسوس ہو تا ہے کہ کراچی کو لاوارث سمجھ لیا گیا ہے ۔ وفاقی حکومت ، صوبائی حکومت اور بلدیاتی حکومتیں اپنی ذمے داریاں پوری نہیں کر رہی اور سب ایک دوسرے پر الزامات لگا رہے ہیں ۔ صوبائی حکومت ، بلدیاتی حکومت پر ذمے داری عائد کرتی ہے اور میئر کراچی نے تو اختیارات اور وسائل نہ ہونے کا رونا روتے ہوئے اپنے پورے چار سال گزار دیئے ۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو بھی ایک سال ہوگیا لیکن انہوں نے کراچی کے لیے کچھ نہیں کیا اور شہری آج بھی بے حال اور بے سکون ہیں ۔