امریکا ہمارے لوگ مار سکتا ہے تو ہمیں بھی انہیں مارنے کا حق ہے،طالبان

75

ماسکو (خبر ایجنسیاں ) امریکا کے انکار کے بعد طالبان نے روس سے رابطہ کیا ہے۔ طالبان کا ایک وفد روس پہنچ گیا ہے جہاں ان کی ملاقات روسی صدر کے نمائندے سے ہوئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے افغان طالبان کیساتھ مذاکرات ختم کیے جانے کے اعلان کے بعد افغان طالبان نے سیاسی پینترا بدل لیا ہے اور اب طالبان کا وفد روس پہنچ گیا ہے۔طالبان رہنما ملا شیر عباس نے کہا ہے کہ ہم جب بھی کسی نتیجے پر پہنچتے ہیں امریکا مذاکرات سے فرار ہوجاتا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ہم نے امریکا پر نہیں امریکا نے افغانستان پر جنگ مسلط کی۔ وہ ہمارے ہزار لوگ مار سکتے ہیں تو ہمیں بھی ان کے ایک دو مارنے کا حق ہے۔ اگر امریکا مذاکرات نہیں چاہتا تو ٹھیک ہے ہم سو سال تک بھی لڑسکتے ہیں۔ملاشیرعباس نے مزید کہا کہ افغانستان میں امن افواج کو محفوظ راستہ دینا چاہتے ہیں ہم جب بھی کسی نتیجے پر پہنچتے ہیں امریکا مذاکرات سے فرار ہوجاتا ہے۔دوسری جانب روسی وزارت خارجہ کے ترجمان ضمیر کابلوف کا کہنا ہے کہ روس کی طرف سے طالبان اور امریکا کے مابین امن مذاکرات بحال کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے جبکہ طالبان نے بھی امریکا کے ساتھ مذاکرات بحال کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔ دوسری جانب امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغان جنگ کے حوالے سے کہا ہے کہ طالبان کو بدترین طریقے سے ایسا نشانہ بنائیں گے جس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ٹرمپ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ چار دنوں میں امریکی فورسز نے دشمن کو ایسا بدترین نشانہ بنایا ہے جو اس سے پہلے کبھی نہیں بنایا گیا تھا اور اس کو جاری رکھیں گے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے نشانے بنانے کی نوعیت کی وضاحت کیے بغیر کہا کہ اس کے لیے گزشتہ ہفتے افغانستان میں ایک حملے میں امریکی فوجی کی ہلاکت کے ردعمل میں طالبان سے مذاکرات منسوخی کے بعد حکم دیا گیا تھا۔