بھارت کشمیر میں سنگین صورتحال کی ذمے داری قبول کرے، امریکی سینیٹرز

58

واشنگٹن/نیویارک (خبر ایجنسیاں) امریکی قانون سازوں کے ایک گروپ نے مقبوضہ وادی کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے صدرٹرمپ پر زور دیا ہے کہ وہ دفعہ 370کی منسوخی کے بعد مقبوضہ علاقے میں پابندیوں کے خاتمے ، ذرائع مواصلات کی بحالی اور گرفتار افراد کی رہائی کے لیے بھارت پر دبائو ڈالیںجبکہ بھارت کو مقبوضہ وادی میں انسانی حقوق پامالیوں کی
ذمے داری قبول کرنا ہوگی۔کشمیر میڈیاسروس کے مطابق امریکی سینیٹ کے ارکان کرس وان ، ٹوڈینگ، بین کارڈین اور لینڈسے گراہم نے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے نام ایک خط میں کہا کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ کشمیر ی عوام کی مشکلات بدسے بدتر شکل اختیار کر رہی ہیں۔ خط میں ،جس کی نقل ذرائع ابلاغ کے لیے بھی جاری کی گئی،صدر ٹرمپ سے درخواست کی گئی کہ وہ مواصلات پر عاید پابندی مکمل طور پر ہٹانے ، کرفیو اور دیگر پابندیاں ختم کرنے اور گرفتار کیے گئے تمام لوگوں کی رہائی کے لیے وزیر اعظم نریندر مودی پر دبائو ڈالیں۔ ادھر امریکی سینیٹ کے ایک اور رکن باب کیسی نے ایک بیان میں کہا کہ بھارت کی طرف سے جموںوکشمیر کے بارے میں کیے جانے والے اقدامات ایک بہت بڑی تبدیلی ہے جس سے پاکستان کے ساتھ اسکے تصادم کے اندیشوں اور کشمیری عوام کے تحفظ و سلامتی کے ضمن میں اضافہ ہو گیاہے۔دوسری جانب امریکی خارجہ امور کی ذیلی کمیٹی نے بھی مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال پر غور و خوض کے لیے اجلاس کے انقاد کا فیصلہ کیا۔ علاوہ ازیںامریکی رکن کانگریس راشدہ طلیب نے بھارتی حکومت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں ہونے والی انسانی حقوق کی پامالیوں کی ذمے داری قبول کرے۔امریکی رکن کانگریس راشدہ طلیب نے ٹوئٹ کرتے ہوئے مقبوضہ وادی میں بھارتی حکومت کی جانب سے 40 روز سے عاید لاک ڈاؤن کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔انہوں نے کہا کہ زندگی بچانے والی ادویات کا فقدان پیدا ہو گیا اور بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔کشمیری عوام کا دنیا سے رابطہ ٹوٹ چکا ہے۔