کنٹرول لائن عبور کرنے کیلیے میری کا کا انتظار کریں،عمران خان

172
مظفر آباد: وزیراعظم عمران خان وفاقی وزرا ودیگر کشمیر یکجہتی جلسے کے دوران قومی ترانے کے احترام میں کھڑے ہوئے ہیں
مظفر آباد: وزیراعظم عمران خان وفاقی وزرا ودیگر کشمیر یکجہتی جلسے کے دوران قومی ترانے کے احترام میں کھڑے ہوئے ہیں

مظفر آباد(آن لائن)وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ کنٹرول لائن عبور کرنے کے لیے کشمیری میری کال کا انتظار کریں۔آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے منعقد جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے انہوںنے کہا کہ مجھے پتا ہے آپ کنٹرول لائن کی طرف جانا چاہتے ہیں لیکن ابھی اس طرف نہیں جانا ،میں آپ کو بتاں گا کہ کب جانا ہے،پہلے مجھے اقوام متحدہ جانے دیں اور کشمیر کا مقدمہ لڑنے دیں ،اگلے ہفتے نیو یارک میں جنرل اسمبلی کے اجلاس میں جا رہا ہوں، جنرل اسمبلی کے اجلاس میں کشمیریوں کو مایوس نہیں کروں گا، کشمیریوں کے لیے ایسا اسٹینڈ لوں گا جو آج تک کسی نے بھی نہیں لیا۔وزیراعظم نے کہا کہ میں نے دنیا میں کشمیر کا سفیر بننے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ میں مسلمان اور ایک انسان ہوں، کشمیر کا مسئلہ انسانیت کا مسئلہ ہے، 40روز سے کشمیری بھائی، بہنیں، بزرگ اور بچے کرفیو کی زد میں ہیں۔عمران خان نے کہا کہ نریندر مودی بزدل انسان ہے، بزدل انسان ایسا ظلم کرتا ہے جو بھارت کی 9 لاکھ فوج آج کشمیریوں پر کررہی ہے، جس میں بھی انسانیت ہوتی ہے کہ وہ کبھی یہ نہیں کرسکتا۔انہوںنے کہا کہ ایک دلیر انسان کبھی عورتوں اور بچوں پر یہ ظلم نہیں کرسکتا جو نریندر مودی اور اس کی جماعت آر ایس ایس کررہی ہے۔عمران خان نے کہا کہ نریندر مودی آپ کشمیریوں پر جتنا ظلم کرلیں کامیاب نہیں ہوں گے کیونکہ کشمیر کی عوام میں موت کا خوف ختم ہوچکا ہے، آپ جو مرضی کرلیں انہیں شکست نہیں دے سکتے۔وزیراعظمنے کہا کہ نریندر مودی بچپن سے آر ایس ایس کا رکن ہے، اس جماعت کے اندر مسلمانوں کی نفرت بھری ہوئی ہے،مودی کان کھول کرسن لے‘ ایمان والا موت سے نہیں ڈرتا‘ کشمیریوں پر مظالم کا ردعمل آئے گا‘ دنیا بھارتی ہٹلرکو روکے ورنہ مقبوضہ وادی کی صورتحال شام سے بھی بدتر ہوسکتی ہے۔عمران خان نے کہا کہ میں پوری دنیا میں کشمیر کا سفیر بن کر جاں گا اور دنیا کو بتاں گا کہ آر ایس ایس کی اصلیت کیا ہے، جس طرح ہٹلر اور نازی پارٹی نے جرمنی میں اقلیتوں پر ظلم کیا اور انسانوں کا قتل عام کیا یہ بھی اسی راستے پر چل رہے ہیں۔مظفر آباد میں منعقد جلسے میں وزیراعظم آزاد کشمیر راجا فاروق حیدر، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیر دفاع پرویز خٹک اور وفاقی وزیر برائے ریلوے شیخ رشید موجودتھے۔ علاوہ ازیں وزیر اعظم عمران خان نے روسی ٹی وی ’رشیا ٹو ڈے‘ کو انٹرویودیتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری کے لیے معیشت اور تجارت انسانوں سے زیادہ اہم ہے، اس نے مقبوضہ کشمیر پر وہ ردعمل نہیں دیا جو دینا چاہیے تھا، تقسیم ہند کے وقت مسئلہ کشمیر حل ہو جا نا چاہیے تھا ۔ انہوں نے کہا کہ مقبو ضہ کشمیر میں نسل کشی کا خدشہ ہے ، مقبو ضہ کشمیر کی صورتحال شام سے بھی بدتر ہو سکتی ہے ۔ وزیراعظم کے بقول کوئی بھی ذی شعور انسان ایٹمی جنگ کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا، بڑی طاقتیں روس،چین اور امریکا اپنے اثر و رسووخ کو بروئے کار لاتے ہوئے مسئلہ کشمیر کا دیرینہ تنازع سمیت متعدد دیگر عالمی معاملات حل کرائیں، 2 ایٹمی ممالک کے مابین تنازع ناقابل تصور ہے،اس سے پہلے کہ یہ خطہ فلیش پوائنٹ بن جائے دنیا کو مداخلت کرنی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ماسکو اور اسلام آباد کو ماضی بھلا کر نئے سرے سے تعلقات استوار کرنا ہوںگے۔
عمران خان