امت مسلمہ اپنے مسائل خود حل کرنے کا عزم کرے، حافظ ادریس

82

لاہور( نمائندہ جسارت)جماعت اسلامی پاکستان کے رہنما و سابق ڈائریکٹر ادارہ معارف اسلامی حافظ محمد ادریس نے جامع مسجد منصورہ میں جمعہ کے بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر اور فلسطین جیسے مسائل اس وقت حل ہوںگے جب امت مسلمہ غیروں کی طرف دیکھنے کے بجائے اپنے مسائل خود حل کرنے کے لیے تیار ہوگی ۔ عالمی استعمار کے غلام مسلم حکمران امت کو متحد کرنے کے بجائے علاقائی ،لسانی اور مسلکی بنیاد پر تقسیم کرکے امت کی قوت کو پارا پارا کررہے ہیں۔کشمیر میں ظلم و جبر اور
ریاستی دہشت گردی انتہا کو پہنچ چکی ہے ۔40دن کے کرفیو سے کشمیر کے اندر ایک انسانی المیہ جنم لے چکا ہے ۔ لوگوں کو خوراک ادویات اور معصوم بچوں کے لیے دودھ تک دستیاب نہیں ۔بیماروں اور زخمیوں کو علاج کی سہولت نہیں ،کشمیر دنیا کی سب سے بڑی جیل بن چکا ہے جہاں لوگوں کو اپنے مُردوں کو قبرستان میں دفنانے تک کی اجازت نہیں دی جارہی اور لوگ مرنے والوں کو گھروں میں دفنانے پر مجبور ہیں۔حافظ محمد ادریس نے کہا کہ بھارت نے 10 لاکھ فوج کے بعد اب آر ایس ایس کے ہزاروں مسلح غنڈوں کو وادی میں اتار دیا ہے ۔آر ایس ایس کے جتھے دیہاتی آبادیوں اور شہروں کے نواحی علاقوں میں کشمیریوں کا قتل عام کرکے ان کی اجتماعی قبریں بنا رہے ہیں ۔فوج کی نگرانی میں راشٹریہ سیوک سنگھ کے قاتلوں نے اپنے انٹیروگیشن سینٹر زبنا رکھے ہیں جہاں کشمیری نوجوانوں کو اذیت ناک اورانسانیت سوز مظالم کا نشانہ بنایا جاتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کے اداروں اور میڈیا کو کشمیر میں جانے اور ان مظالم سے پردہ اٹھانے کی اجازت نہیں۔انہوں نے کہا کہ دنیا کو اب زبانی ہمدردی اور مذمت سے آگے بڑھ کر کشمیر یوں کی عملی مدد کرنا ہوگی۔حافظ محمد ادریس نے کہا کہ تمام تر مظالم کے باوجود کشمیری اپنا فرض ادا کررہے ہیں ،کشمیریوں کے حوصلے جوان ہیں اور بھارت کی ریاستی دہشت گردی کا صبر و استقامت اور جرأت کے ساتھ مقابلہ کررہے ہیں مگر اب حکومت پاکستان کو بھی بیانات اور تقریروں سے آگے بڑھنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ کشمیر میں ظلم کی سیاہ رات بہت جلد ختم ہونے والی ہے وہ وقت دور نہیں جب کشمیرمیں آزادی کی صبح طلوع ہوگی ۔