بھارتی جنرل یمن میں عالمی مبصر مشن کے سربراہ مقرر

112

نیو یارک (انٹرنیشنل ڈیسک) اقوام متحدہ نے اعلان کیا ہے کہ بھارت کے ایک ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل ابھیجیت گُوہا کو یمن کے شہر الحدیدہ میں نئی صف بندی کی رابطہ کار کمیٹی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے، ساتھ ہی وہ بندرگاہی شہر میں اقوام متحدہ کے مبصر مشن کے چیف کی ذمے داریاں بھی انجام دیں گے۔ جنرل گُوہا ڈنمارک سے تعلق رکھنے والے جنرل مائیکل لولزگارڈ کی جگہ لیں گے۔ اس طرح وہ الحدیدہ شہر میں جنگ بندی کے سمجھوتے کی نگرانی کے لیے مقرر کیے جانے والے اقوام متحدہ کے تیسرے ذمے دار بن جائیں گے۔ اقوام متحدہ کے سکرٹری جنرل کے ترجمان کے مطابق انتونیو گوتیریس نے جنرل لولزگارڈ کی خدمات کا اعتراف کیا ہے اور ساتھ ہی جنرل ابھیجیت گُوہا کو خوش آمدید بھی کہا ہے۔ جنرل گُوہا نے 2009ء سے 2013ء کے درمیان اقوام متحدہ کی امن فوج کے آپریشنز کی انتظامیہ کے عسکری امور کے بیورو میں بطور نائب عسکری مشیر کام کیا۔ انہوں نے 2013ء میں امن اور تزویراتی شراکت داری کا بیورو قائم کیا۔ جنرل گُوہا نے بھارتی فوج میں انفینٹری بریگیڈ اور انفینٹری کے کمانڈر کے طور پر بھی فرائض انجام دیے۔ اسی طرح انہوں نے 1992ء سے 1993ء تک کمبوڈیا میں اقوام متحدہ کی عبوری اتھارٹی میں بطور عسکری مبصر کام کیا۔ الحدیدہ میں نئی صف بندی سے متعلق کمیٹی میں یمن کی تسلیم شدہ آئینی حکومت اور حوثی ملیشیا کے 3، 3 ارکان شامل ہیں۔ کمیٹی کا مشن الحدیدہ شہر اور اس کی بندرگاہوں سے حوثی ملیشیا کے انخلا کے لیے رابطہ کاری انجام دینا ہے۔ اس کے علاوہ بین الاقوامی مبصرین کی ٹیم جنگ بندی پر عمل اور الحدیدہ سے متعلق اسٹاک ہوم معاہدے پر عمل کی نگرانی کا کام کر رہی ہے۔