ٹرمپ جنرل اسمبلی میں روحانی سے ملنے کو بے تاب

172
بالٹیمور: ٹرمپ کی آمد پر مظاہرین نے چوہے سمیت صدر کے مختلف مضحکہ خیز پتلے بنا رکھے ہیں
بالٹیمور: ٹرمپ کی آمد پر مظاہرین نے چوہے سمیت صدر کے مختلف مضحکہ خیز پتلے بنا رکھے ہیں

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایرانی ہم منصب سے ملنے کی خواہش بڑھتی جا رہی ہے جبکہ اس حوالے سے تہران حکومت سمیت ایرانی حکام مکمل خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ ایران کے رہنما ان سے مذاکرات کے خواہاں ہیں۔ وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ کوشش کررہے ہیں کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر وہ ایرانی ہم منصب حسن روحانی کے ساتھ ملاقات کریں۔ ساتھ ہی ٹرمپ نے وضاحت کی کہ وہ یہ بتانا چاہتے ہیں کہ دراصل ایران ملاقات کا خواہاں ہے۔ واضح رہے کہ صدر ٹرمپ کا بیان ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب نیویارک میں رواں ماہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس ہونے جارہا ہے جس میں دنیا بھر کے سربراہان مملکت شرکت کریں گے۔ اُدھر امریکی صدر کی حالیہ پیشکش کے حوالے سے ایران کی طرف سے اب تک کوئی مثبت ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ ٹرمپ کے حالیہ نرم رویے اور ایران سے متعلق لچک کی تصدیق ان کے گزشتہ دنوں ہونے والے فیصلے سے بھی ہوتی ہے جس میں انہوں نے ایران سے متعلق سخت موقف رکھنے والے اپنے قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن کو عہدے سے ہٹا دیا تھا۔ دوسری جانب امریکی وزیر خزانہ نے ٹرمپ کے ایران کے خلاف پابندیوں میں نرمی سے متعلق بیان کے بعد کہا ہے کہ تہران حکومت کے خلاف بدستور زیادہ سے زیادہ دباؤ برقرار رکھنے کی مہم جاری رہے گی۔ اسٹیون منوچن نے سی این بی سی کے ساتھ انٹرویو میں ٹرمپ کے تازہ بیان کی بھی نفی کی۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر ایرانی ہم منصب سے ملاقات کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔