ترکی: سابق وزیراعظم نے حکمراں جماعت چھوڑ دی

265
انقرہ: سابق وزیراعظم احمد داود اولو حکمراں جماعت کے صدر دفتر میں علاحدگی کا اعلان کررہے ہیں
انقرہ: سابق وزیراعظم احمد داود اولو حکمراں جماعت کے صدر دفتر میں علاحدگی کا اعلان کررہے ہیں

انقرہ (انٹرنیشنل ڈیسک) ترکی کے سابق وزیراعظم احمد داود اولو نے حکمراں انصاف وترقی پارٹی کی رکنیت چھوڑنے کا اعلان کردیا۔ صدر رجب طیب اردوان کی جماعت انصاف وترقی پارٹی چھوڑنے کی وجہ بعض سیاسی کارکنوں کی جانب سے داود اولو کو پارٹی سے نکالنے کا مطالبہ قرار دیا گیا ہے۔ سابق وزیراعظم نے جمعہ کے روز ملکی دارالحکومت انقرہ میں پارٹی کے صدر دفتر میں پریس کانفرنس کے دوران ایک نئی سیاسی تحریک اور ایک نیا راستہ اپنانے کا اعلان بھی کیا۔ داود اولو کو انصاف وترقی پارٹی کے کئی اہم کارکنوں کی حمایت بھی حاصل ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق داود اولو کا استعفا صدر اردوان کے لیے ایک دھچکا ثابت ہو سکتا ہے۔ خیال رہے کہ انصاف وترقی پارٹی کو ایک اور ہنگامہ خیز صورتحال کا سامنا ہے۔ احمد داود اولو حالیہ دنوں کے دوران جماعت چھوڑنے والے دوسری مرکزی شخصیت ہیں۔ انہوں نے اپنی ایک نئی جماعت کی جلد تشکیل کا اعلان کیا ہے۔ احمد داود اولو نے اپنے خلاف پارٹی میں ہونے والی انضباطی کارروائی شروع ہونے کے کچھ ہی دن بعد اپنے عہدے اور پارٹی رکنیت سے استعفا دیا ہے۔ داود اولو کے علاوہ 3 دیگر سابق ارکان پارلیمان کو بھی پارٹی کی جانب سے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر پارٹی سے نکالے جانے کی تیاریاں کی جارہی تھیں۔ احمد داود اولو نے 2014ء اور 2016ء کے درمیان رجب طیب اردوان کی صدارت تلے بطور وزیر اعظم فرائض انجام دیے تھے۔ انہیں اردوان کی داخلی پالیسیوں بالخصوص آزادی اظہار رائے پر لگائی جانے والی پابندیوں پر اعتراضات تھے۔ داود اولو سے قبل آق پارٹی کو چھوڑنے والوں میں علی بابا جان شامل ہیں، جو نائب وزیر اعظم اور وزیر خزانہ کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔