یورپی سربراہ نے انگریزوں کو نک چڑھا قرار دیدیا

92

برسلز (انٹرنیشنل ڈیسک) یورپی یونین کمیشن کے صدر ژاں کلاڈ ینکر نے کہا ہے کہ برطانیہ ہمیشہ سے ہماری مشترکہ پالیسیوں سے دور رہتا ہے، کیوں کہ انگریزوں نے ویسے ہی یورپ میں اپنی شمولیت کو کبھی بھی گرم جوشی سے نہیں لیا۔ برسلز میں یورو نیوز کے ساتھ انٹرویو میں ژان کلاڈ ینکر نے کہا کہ یورپی یونین نے 40 سال تک برطانیہ کو اپنا ایک حصہ قرار دیا، مگر لندن حکومت نے اس سلسلے میں ہمیشہ اپنے قدم پیچھے رکھے۔ انہوں نے کہا کہ انگریزوں نے خود کو کبھی بھی یورپ کا مکمل حصہ بننا پسند نہیں کیا۔ انگریز ہمیشہ پارٹ ٹائم یورپی رہے۔ بریگزٹ سے برطانیہ کا اخراج دونوں طرف نقصان کا باعث بنے گا اور میں سمجھتا ہوں کہ اس فیصلے کو عوامی ریفرنڈم کے لیے پیش کرنا ایک غلطی تھا۔ واضح رہے کہ بریگزٹ کے حوالے سے پیر کے روز ژان کلاڈ ینکر اور برطانوی وزیراعظم کے درمیان ملاقات ہونے جارہی ہے۔ یورپی عہدے داروں نے جمعہ کے روز بتایا کہ دونوں رہنماؤں کی ملاقات لکسمبرگ میں ظہرانے پر ہوگی۔ بورس جانسن کے جولائی میں وزیراعظم بننے کے بعد ژان کلاڈ ینکر سے پہلی بالمشافہہ ملاقات ہوگی۔ دوسری جانب بورس جانسن کا کہنا ہے کہ وہ بریگزٹ معاہدہ طے پانے کے لیے پُرامید ہیں۔ انہوں نے یہ بات جمعہ کے روز کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ امید ہے کہ معاہدہ طے پا جائے گا، تاہم کچھ بھی ہو، برطانیہ 31 اکتوبر کی مہلت تک یورپی یونین سے علاحدہ ہوجائے گا۔ خیال رہے کہ وزیر اعظم بورس جانسن کو سخت مشکلات اور تنقید کا سامنا ہے۔ ایسا ہی ایک الزام ان پر ملکہ الزبتھ دوم کو دھوکے میں رکھنے کا ہے۔ تاہم انہوں نے اس بات کی تردید کی ہے کہ انہوں نے ملکہ برطانیہ کو پارلیمان 5 ہفتے تک معطل رکھنے کا مشورہ دیتے وقت جھوٹ کا سہارا لیا تھا۔ بورس جانسن کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسکاٹ لینڈ کی اعلیٰ ترین عدالت نے پارلیمان کو معطل کرنے کے فیصلے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر اعظم بورس جانسن نے پارلیمان کی معطلی کے حوالے سے ملکہ برطانیہ کو گمراہ کیا تھا۔ جب بورس جانس سے سوال ہوا کہ آیا انہوں نے معطلی کی وجوہات بیان کرتے وقت ملکہ سے جھوٹ بولا تھا تو ان کا جواب نفی میں تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہائی کورٹ واضح طور پر ہم سے متفق ہے، تاہم آخری فیصلہ سپریم کورٹ کو کرنا ہو گا۔