وائٹ ہاؤس کی جاسوسی میں اسرائیل ملوث ہے‘ صہیونی میڈیا

84

مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک) اسرائیلی میڈیا نے امریکی صدر کی رہایش گاہ اور دفتر وائٹ ہاؤس کے قریب جاسوسی کے آلات کی تنصیب کو صہیونی حکومت کی کارروائی قرار دے دیا۔ اسرائیلی نیوز ویب سائٹ پولیٹیکو نے جمعرات کے روز خبر دی کہ امریکی حکومت کے خیال میں وائٹ ہاؤس کے قریب اور دارالحکومت کے دیگر حساس مقامات پر جاسوسی کے آلات نصب کرنے میں شاید امریکا کا قریبی اتحادی اسرائیل ملوث ہے۔ پولیٹیکو نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ جاسوسی کے چھوٹے چھوٹے آلات جنہیں سٹنگ ریز کہا جاتا ہے، شاید صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جاسوسی کے لیے نصب کیے گئے تھے۔ تاہم خبر میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ واضح نہیں کہ اسرائیلی کوششیں کامیابی سے ہم کنار ہوئیں یا نہیں۔ امریکی نیشنل سیکورٹی کے کئی سابق اعلیٰ عہدے داروں نے پولیٹیکو کو بتایا کہ ایف بی آئی اور امریکا کی دیگر ایجنسیوں نے آلات کی تفتیش کے بعد ان کا تعلق اسرائیلی ایجنٹوں سے جوڑا ہے۔ خبر میں کہا گیا ہے کہ امریکی حکومت اور دیگر سرکاری عہدے دار اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ گزشتہ 2 سال کے دوران ان آلات کی تنصیب میں اسرائیل ملوث رہا ہے۔ خبر میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ کے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو سے قریبی تعلقات کی بنا پر امریکا نے اسرائیل کی ان مبینہ اقدامات کو زیادہ اہمیت نہیں دی تھی اور نہ ہی کوئی ردعمل ظاہر کیا۔ دوسری جانب نیتن یاہو نے نیوز ویب سائٹ پولیٹیکو کی اس خبر کو مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے اسے من گھڑت بھی قرار دیا۔