راستے بند کرنا حسینی سنت نہیں

113

گزشتہ کئی روز سے کراچی کی سڑکوں پر موٹر سائیکل سوار پولیس کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔ جگہ جگہ انہیں روک کر کھڑا کر دیا جاتا ہے۔ کبھی چالان ہوتا ہے کبھی دھمکایا جاتا ہے اور کبھی مک مکا ہو جاتا ہے۔ محرم الحرام کے عشرے کے آخری تین روز موٹر سائیکل پر ڈبل سواری پر پابندی تھی اس کی وجہ سے اگر کوئی مجبور یا شوقین ہی سہی ڈبل سوار نظر آگیا تو اس کی شامت۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ پولیس ایسے ہی مواقع کی تلاش میں رہتی ہے۔ ادھر انتظامیہ نے موٹر سائیکل پر ڈبل سواری ممنوع قرار دی اُدھر پولیس حرکت میں آگئی۔ حالانکہ یہ حکم احتیاطی طور پر دیا گیا ہے۔ ہر ڈبل سواری والا دہشت گرد بھی نہیں ہوتا یہ معزز شہری ہیں لیکن پولیس والے نہایت بدتمیزی سے ان کے ساتھ بات کرتے ہیں۔ محرم الحرام کے عشرے کے حوالے سے موٹر سائیکل پر ڈبل سواری پر پابندی ہو، کنٹینر لگا کر دکانیں اور راستے بند کرنا ہو یا ڈھائی کروڑ کے شہر کو مکمل مفلوج کر دینا مذہب نہیں ہو سکتا۔ جو لوگ یہ کرتے ہیں یا جن کے نام پر یہ سب ہوتا ہے انہیں خود اس کی روک تھام کرنی چاہیے۔ لوگوں کے راستے بند کرنے سے تو غلط تاثر پیدا ہوتا ہے۔ لوگوں میں غصہ بڑھتا ہے اور غلط طریقے سے نکل سکتا ہے۔ اب دس محرم کے بعد 12 محرم کو بھی گلستان جوہر سمیت کئی علاقوں میں سڑکیں، گلیاں اور کاروبار بند کرا دیا جاتا ہے۔ شہری انتظامیہ بتائئے کہ نئی نئی تاریخیں کہاں سے آرہی ہیں۔ پورے ملک کی بھاری اکثریت اس صورتحال سے پریشان ہے۔راستے بند کرنے والے یاد رکھیں کہ راستے سیدنا حسینؓ کے یزیدی قوتوں نے بند کیے تھے۔ سیدنا حسین کے نانا نے راستے بند کرنے اور راستوں میں بیٹھنے کو منع کیا ہے۔ لوگوں کو محصور کر دینے سے باہمی اتحاد پیدا نہیں ہوتا بلکہ کدورتیں جنم لیتی ہیں۔ کئی برس سے یہی ہو رہا ہے کہ سوئم کے نام پر 12 محرم کو راستے بند کر دیے جاتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ اس میں حکومت کی رضا بھی شامل ہے۔ ایسا ہے تو 12 محرم کو بھی عام تعطیل کر دی جائے۔