’’قومی قیادت‘‘ قوم کو مایوس کررہی ہے

300

’’قومی قیادت‘‘ کا لفظ جب ہم استعمال کریں گے تو اس کا مطلب حکمران، اپوزیشن اور جنرل ہوں گے، کیوں کہ یہی وہ تینوں قوتیں ہیں جو کسی بحران میں فیصلہ کن کردار ادا کرسکتی ہیں۔ سقوط ڈھاکا کے بعد سقوط سری نگر پاکستان کی تاریخ کا سب سے زیادہ خوفناک بحران ہے۔ ’’مشرقی پاکستان‘‘ مشرقی بازو تھا جسے 1971ء کی بھارتی فوجی جارحیت کے ذریعے کاٹ دیا گیا۔ اُس وقت بھی پاکستان کی فوجی اور سیاسی قیادت (قومی قیادت) ناکام رہی۔ جنرل جنگ میں شکست کھا گئے اور سیاستدان عالمی سازش کا شکار ہوگئے۔ جنرل یحییٰ خان، جنرل نیازی، ذوالفقار علی بھٹو اور شیخ مجیب الرحمن کے اُس وقت کے فیصلوں کا اگر بغور مطالعہ کیا جائے تو صاف معلوم ہوگا کہ مشرقی پاکستان توڑنے کے لیے بھارت کی وزیراعظم اندرا گاندھی، امریکی صدر رچرڈ نکسن اور روس کے وزیراعظم کوسگین نے مل کر جو سازش تیار کی تھی پاکستان کی مذکورہ ’’قومی قیادت‘‘ بلواسطہ یا براہ راست اس کے لیے استعمال ہوئی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ نہ صرف 90 ہزار پاکستانی بھارت کے قیدی بن گئے بلکہ مشرقی پاکستان بھی ٹوٹ کر ایک دوسرا ملک بنگلا دیش بن گیا۔
5 اگست 2019ء کو بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کو ختم کرتے ہوئے جس طرح سے ریاست کو بھارت میں ضم کرنے کا اعلان کیا ہے اُس نے ’’سقوط ڈھاکا‘‘ کے زخم اور صدمے کو تازہ کردیا ہے۔ آج ’’مقبوضہ کشمیر‘‘ کو بھارت میں ضم کرنے سے پاکستان کی ’’شہ رگ‘‘ کو کاٹا جارہا ہے۔ لہٰذا صورتِ حال کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے پاکستان کی ’’قومی قیادت‘‘ کا جو ردعمل آنا چاہیے تھا نہ صرف وہ نہ آسکا بلکہ پاکستان کے عوام اور کشمیری مظلومین کو دھوکا دینے کے لیے پاکستانی قیادت ایسا ردعمل دے رہی ہے جس سے بھارت پر تو کوئی دبائو نہیں پڑے گا البتہ پاکستان کے اندر بے چینی اور پریشانیوں میں اضافہ ہوجائے گا۔ آگے چل کر پاکستان کے عوام خود ہی یہ کہنے پر مجبور ہوجائیں گے کہ ’’یار رہنے دو کشمیریوں کو ہم کب تک سڑکوں پر کھڑے مظاہرے کرتے رہیں گے‘‘۔ قوم کو تھکا دینے والی پالیسی اختیار کرکے دشمن کا کام آسان کیا جارہا ہے۔
سوال یہ ہے کہ 100 مرتبہ کے اعلیٰ سطح کے مذاکرات میں جو مسئلہ حل نہ ہوسکا وہ اب کس طرح کسی ثالثی یا مذاکرات سے حل ہوگا۔ جو مسئلہ تاشقند معاہدہ، شملہ سمجھوتا، معاہدہ واشنگٹن اور اعلان لاہور سے طے نہ ہوسکا وہ اب کون سے معاہدے سے طے ہوسکے گا۔ جو مسئلہ اقوام متحدہ کی 48ء اور 49ء کی تسلیم شدہ قراردادوں کے باوجود ہنوز حل طلب ہے تو یو این او سے مزید کس طرح کی اُمید رکھی جاسکتی ہے؟۔ وزیراعظم عمران خان ہر روز عالمی برادری سے اپیلیں کررہے ہیں، حالاں کہ وزیراعظم صاحب کو سب سے پہلے اپنے حصے کا کام کرنا چاہیے تھا، جب کہ وزیراعظم صاحب کی اپنی پالیسی تو یہ ہے کہ بھارت کے ساتھ اب تک سفارتی تعلقات قائم ہیں، کرتارپور راہداری کو مکمل کرنے کے لیے تعاون اور مذاکرات ہورہے ہیں۔ بھارتی وفد کو منرل واٹر پلائے اور کیک کھلائے جارہے ہیں تو ایسے میں عالمی برادری کو کیا پڑی ہے کہ وہ بھارت کا پانی بند کردے۔ پاکستان کے حکمرانوں کو تو امریکا کی جنگ لڑنے کی عادت ہے مگر عالمی برادری میں دوسروں کی جنگ لڑنے کا رواج بہت کم ہے۔ ویسے بھی مقبوضہ کشمیر پاکستان کی ’’شہ رگ‘‘ ہے۔ چین، ترکی یا ملائیشیا کی نہیں، ہمیں اپنی شہ رگ بچانے کے لیے جو کچھ کرنا چاہیے وہ خود ہی کرنا ہوگا۔ تو کیا ہم ایسا کچھ کررہے
ہیں جب کہ صدر مملکت عارف علوی صاحب جو مسلح افواج کے سربراہ ہیں اور جنہیں جنگ کرنے کا حکم دینا ہے وہ کہہ رہے ہیں ’’بھارت سُدھر جائے ورنہ ہم ڈنڈا استعمال کریں گے‘‘۔ (31 اگست 2019ء)۔ حیرت ہے کہ میزائل چلانے کا حکم دینے والا ڈنڈا استعمال کرنے کی بات کررہا ہے۔ ویسے لگتا بھی ایسا ہی ہے کہ جیسے ’’مسئلہ کشمیر‘‘ پر بھارت اور پاکستان ’’گلی ڈنڈا‘‘ کھیل رہے ہوں۔ اسی طرح سے جنرل صاحبان کا بھی جو بیان پڑھیں اُن میں ایک لفظ بار بار دہرایا جارہا ہے ’’ہم کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ حالاں کہ مقبوضہ کشمیر کا قائد سید علی گیلانی بار بار یہ اپیلیں کررہا ہے کہ پاکستان ہماری مدد کرے۔ مقبوضہ وادی میں مظاہرین کے ہاتھوں میں پاکستان کا جھنڈا خون میں تربتر ہے، تو کیا محض ان کے ساتھ کھڑے ہونے کا اعلان کافی ہوگا یا یہ کہ آگے بھی بڑھنا ہوگا؟۔
وزیراعظم اور جرنیلوں کے بیانات سے معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان کی جنگی تیاریاں اس لیے نہیں کہ وہ مقبوضہ کشمیر کو آزاد کرانے کے لیے بھارت پر کوئی حملہ یا پیش قدمی کرنا چاہتے ہیں بلکہ یہ جنگی تیاریاں صرف اس لیے ہورہی تھیں کہ بھارت کہیں ’’آزاد کشمیر‘‘ پر حملہ نہ کردے یعنی یہ جنگی تیاریاں ’’مقبوضہ کشمیر‘‘ کی آزادی کے لیے نہیں بلکہ پاکستان کے دفاع کے لیے ہیں۔ تو یہاں ہماری ’’قومی قیادت‘‘ سے گزارش ہے کہ کیا ’’شہ رگ‘‘ کے کٹ جانے کے بعد بقیہ جسم کے زندہ رہنے کی کوئی اُمید کی جاسکتی ہے۔ سوال یہ بھی ہے کہ جب 72 برس سے مقبوضہ کشمیر پر بھارت کا فوجی قبضہ ہے تو اس قبضے کو چھڑانے کے لیے فوجوں کو آگے بڑھنے کا حکم کیوں نہیں دیا جارہا، کیا فوجی قبضہ فوجی ٹکرائو کے بغیر محض قراردادوں اور مذاکرات سے ختم کرایا جاسکتا ہے، اگر ایسا ممکن ہوتا تو اب تک مسئلہ کشمیر اور مسئلہ فلسطین کو حل ہوجانا چاہیے تھا، جب کہ افغانستان کا ’’جہاد‘‘ زندہ ثبوت ہے کہ حملہ آور اور جارح کو کس طرح سے گھٹنوں پر بٹھایا جاتا ہے۔
ریلیاں نکالنے، پتلے جلانے اور ہاتھوں کی زنجیر بنانے، جلوس نکالنے سے کچھ نہیں ہوگا، مقبوضہ کشمیر تب آزاد ہوگا جب فوجیں چھائونیوں سے باہر نکلیں گی، پیش قدمی ہوگی، ٹینک آگے بڑھیں گے، توپیں نشانہ لیں گی، ایف 16 اور تھنڈر فضائوں میں بلند ہوں گے، میزائلوں کو اپنے ہدف کی طرف سیدھا کیا جائے گا، کرنل اور بریگیڈیئر اگلے مورچوں میں اپنے آفیسرز اور جوانوں کے ساتھ کھڑے دشمن کی نقل و حرکت دیکھ رہے ہوں گے۔ تب اللہ اکبر کی آواز کے ساتھ فائر کی آواز گونجے گی، پھر دیکھو کہ کشمیر کیسے چند روز میں آزاد ہوجاتا ہے۔ کشمیر کی مسلمان بیٹی کا دوپٹا زمین پر پڑا ہو، اور بھارتی فوجی کا ہاتھ اُس کے بالوں میں ہوبخدا منظر موت سے کم نہیں۔ ہم آخر میں ’’قومی قیادت‘‘ (وزیراعظم، جنرل، دینی اور سیاسی رہنما) کو صاف الفاظ میں یہ بتانا چاہتے ہیں کہ قوم تم سے مایوس ہورہی ہے۔ پاکستان کے ناقابل تسخیر دفاع کا دعویٰ اور وعدہ پورا ہوتا ہوا نظر نہیں آرہا۔ قوم بجا طور پر یہ سمجھتی ہے کہ پاکستان مظفر آباد سے نہیں سری نگر سے شروع ہوتا ہے۔ قومی قیادت سری نگر کی طرف پیش قدمی کرنے پر اتفاق کرے۔ مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کے ساتھ کھڑا ہونا کوئی معنی نہیں رکھتا یہ جھوٹ اور دھوکا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کو فوجی مدد کی ضرورت ہے، اگر ہماری قومی قیادت پاکستان کی شہ رگ بچانے اور مظلوم کشمیری مسلمانوں کی فوجی مدد کرنے سے قاصر رہی تو پھر یقینا یہ دنیا اور آخرت میں اللہ کے عذاب سے بچ نہیں سکے گی۔ ہم اللہ رب العزت سے دعا کرتے ہیں کہ ہماری ’’قومی قیادت‘‘ کو حوصلہ اور جرأت عطا فرمائے (آمین ثم آمین)۔