کشمیر پر ’’زبانی جمع خرچ‘‘!

245

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی محاصرے کو ایک ماہ سے زیادہ ہوگیا ہے لیکن بھارت، امریکا، برطانیہ، روس، اقوام متحدہ اور او آئی سی کی اپیلوں کے باوجود نہ تو مقبوضہ علاقے میں کرفیو ختم کرنے پر آمادہ ہوا ہے نہ ہی گھروں میں محصور کشمیریوں کے لیے اشیائے خوراک اور ادویات کی فراہمی میں آسانی پیدا کی ہے وہ ریڈ کراس کے ذریعے امدادی سامان کی ترسیل میں بھی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ بھارت اقوام متحدہ یا او آئی سی کے کسی جائزہ مشن کو بھی مقبوضہ علاقے تک رسائی دینے کا روادار نہیں ہے۔ اس نے مقبوضہ کشمیر کے اردگرد ایک آہنی دیوار کھینچ رکھی ہے جس میں دراڑ ڈالنے کی ہر کوشش کو وہ ناکام بنارہا ہے لیکن اس کے باوجود اطلاعات کے جدید ترین نظام کو پوری طرح سنسر کرنا اس کے بس میں نہیں ہے اور عالمی ذرائع ابلاغ میں مقبوضہ کشمیر کی سنگین ترین صورتِ حال ہی اِس وقت موضوع بحث بنی ہوئی ہے اور دُنیا کو بتایا جارہا ہے کہ مودی سرکار نے مقبوضہ علاقے میں مظالم کی انتہا کردی ہے، وہ پوری آبادی کو بھوکا پیاسا مارنا چاہتی ہے، رات کے اندھیرے میں گھروں پر چھاپے مار کر نوجوانوں کو پکڑا جارہا ہے، عورتیں اغوا کی جارہی ہیں، دن کے اُجالے میں مظاہرہ کرنے والے بچوں کو پیلٹ گنوں سے چھلنی کیا جارہا ہے اور ان کی بینائی چھینی جارہی ہے، مسجدیں نمازیوں کے لیے بند کردی گئی ہیں اور گزشتہ پانچ ہفتوں سے مساجد میں نماز جمعہ کے اجتماعات منعقد نہیں ہوسکے۔ عاشورہ محرم پر بھی بھارتی فوج نے ماتم گسارانِ حسینؓ پر مظالم کے پہاڑ توڑے۔ اس سب کچھ کے باوجود کشمیری عوام بھارت کے آگے سرنڈر کرنے کو تیار نہیں ہیں ان کے نزدیک آزادی کے بغیر زندگی بے معنی ہو کر رہ گئی ہے۔ وہ آزادی چاہتے ہیں یا پھر موت کو گلے لگانے کے لیے تیار ہیں۔ وہ بھارت سے آزادی حاصل کرکے ملتِ اسلامیہ پاکستان کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔ مقبوضہ علاقے کے درو دیوار پاکستان کے حق میں نعروں سے گونج رہے ہیں، وہ پاک فوج کو مدد کے لیے پکار رہے ہیں اور دیواروں پر ایسے پوسٹر چسپاں کیے گئے ہیں جن میں پاک فوج سے مقبوضہ کشمیر میں مداخلت کی درخواست کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ ہم کشمیر سے بھارت کو نکال پھینکنے میں پاک فوج کے شانہ بشانہ ہوں گے۔
ایک طرف یہ صورتِ حال ہے اور دوسری طرف پاکستان میں بھی اہل کشمیر کے ساتھ یکجہتی کا والہانہ اظہار کیا جارہا ہے۔ عوامی اور سرکاری سطح پر کشمیریوں کے ساتھ بھارت کے سفاکانہ سلوک پر شدید احتجاج کیا جارہا ہے۔ عوام کشمیر مارچ اور احتجاجی ریلیوں کے ذریعے اپنے جذبات کا اظہار کررہے ہیں اور عسکری و سیاسی قیادت اپنے بیانات اور تقریروں کے ذریعے اپنا موقف واضح کررہی ہے۔ پاک فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ اگر مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے مظالم بند نہ ہوئے تو جنگ کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے۔ فوجی ترجمان کا کہنا ہے کہ کشمیر ہماری رگوں میں خون کی طرح دوڑتا ہے ہم اس کے لیے آخری سپاہی، آخری گولی اور آخری سانس تک جانے کو تیار ہیں۔ ترجمان نے دعویٰ کیا کہ ہمارے پاس دشمن کو مزا چکھانے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے، سارے منصوبے تیار ہیں، قوم اطمینان رکھے ہم بہادر کشمیریوں کی توقعات پر پورا اُتریں گے۔ گزشتہ دنوں 6 ستمبر 1965 کی یاد میں یوم دفاع پاکستان اور یوم یکجہتی کشمیر ایک ساتھ منایا گیا۔ اس موقع پر پاک فوج کا سلوگن تھا ’’کشمیر بنے گا پاکستان‘‘ وزیراعظم عمران خان اور سپہ سالار اعظم جنرل قمر جاوید باجوہ کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے کنٹرول لائن پر گئے اور اگلے مورچوں پر موجود افسروں اور جوانوں سے ملاقاتیں کیں۔ وزیراعظم نے اس موقع پر کہا کہ ہم بھارتی مہم جوئی کا منہ توڑ جواب دینے کو تیار ہیں۔ اس سے قبل آرمی چیف نے جی ایچ کیو میں یوم دفاع کی مرکزی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اس عزم کو دہرایا کہ ہم کشمیریوں کو حالات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑیں گے اور ان کا آخری سپاہی آخری گولی اور آخری سانس تک ساتھ دیں گے۔
اہل کشمیر کہتے ہیں کہ یہ ساری باتیں درست اور ہمارے لیے خوش آئند ہیں لیکن ان کی حیثیت طفیل تسلی اور ’’زبانی جمع خرچ‘‘ سے زیادہ نہیں ہے۔ ان بیانات کی سچائی تو اس وقت ثابت ہوگی جب پاک فوج ہمیں بھارت کے ظلم سے بچانے کے لیے آگے بڑھے گی اور ہمیں اپنے حفاظتی حصار میں لے گی۔ پاک فوج کی اس پیش قدمی پر بھارت کا واویلا بلاجواز ہوگا اگر وہ کوئی جوابی کارروائی کرے گا تو خود اہل کشمیر اسے ناکام بنادیں گے۔ کشمیری کہتے ہیں کہ ’’اب یا کبھی نہیں‘‘۔ کشمیر کو بھارت کے چنگل سے چھڑانے کا یہی موقع ہے یہ ہاتھ سے نکل گیا تو کفِ افسوس ملنے کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔ اہل کشمیر کو شبہ ہے کہ پاکستان اپنے تمام تر دعوئوں کے باوجود پھر مذاکرات کی طرف بڑھ رہا ہے اور عالمی طاقتیں اسے مذاکرات کے جال میں پھنسانا چاہتی ہیں لیکن پاکستان کو سمجھ لینا چاہیے کہ مذاکرات سے مسئلہ کشمیر نہ پہلے حل ہوا ہے نہ آئندہ کبھی حل ہوگا۔ اس کا واحد راستہ جہاد ہے اور یہی پاک فوج کا ماٹو ہے۔ محض ’’زبانی جمع خرچ‘‘ سے ہم کچھ حاصل نہیں کرپائیں گے۔