کشمیر میں پانی سر سے گزر چکا

132

اس بات سے تو آپ سب ہی واقف ہوں گے کہ آج کل کشمیر میں کیا حالات چل رہے ہیں۔ مسلمانوں کو کس بے دردی اور بے رحمی سے مارا جارہا ہے۔ بھارت نے کشمیر پر کئی دنوں سے کرفیو نافذ کیا ہوا ہے، وہاں لوگوں کے پاس کھانے پینے اور ضروریات زندگی کا سامان ختم ہوگیا ہے۔ اب بات آتی ہے کہ ہمیں کیا کرنا چاہیے اور ہمارا کیا فرض بنتا ہے۔ جب بھی کسی سے کشمیر کی آزادی کے بارے میں بات کی جائے تو کہا جاتا ہے کہ مسئلہ کشمیر کو مذاکرات سے حل کرنا چاہیے اور جنگ نا بھائی نا جنگ تو بالکل نہیں ہونی چاہیے۔ جنگ کے تو بہت سے نقصان ہیں، جنگ سے حکومت اور معیشت دونوں ختم ہوجاتی ہیں۔ تو میں آپ کو بتاتا چلوں کہ ہماری حکومت اور معیشت دونوں ویسے ہی ختم ہوگئی ہیں اور ایسی جنگ جس میں بھارت اور پاکستان جیسے دو نیوکلیئر پاور ملک ایک دوسرے کو گھور رہے ہوں تو صرف ملک کی معیشت ہی نہیں بلکہ دنیا کے سارے براعظم اُس کی تپش محسوس کرتے ہیں۔ لیکن اب پانی سر سے گزر چکا ہے اور بھارت اپنی اوقات اور حدود بھول کر بہت آگے آچکا ہے۔ اب مسئلہ کشمیر مذاکرات سے نہیں بلکہ جہاد ہی سے حل ہوسکتا ہے۔ ہماری حکومت کو چاہیے کہ جہاد کا اعلان کردے مگر یہاں تو جہاد سے انکار کردیا۔ ہمیں اپنے اُن بہن بھائیوں کے بارے میں سوچنا چاہیے جو پچھلے 72 سال سے آزادی کی جنگ لڑتے آرہے ہیں اور یہاں تک کہ یہ جنگ اُن کی تیسری نسل بھی لڑ رہی ہے۔ وہ پچھلے 72 سال سے پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں اور اب بھی ہمارے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔ تو پھر پاکستانی ہر قسم کے اختلافات چاہے دینی ہوں یا سیاسی سب چھوڑ کر انسانیت کی خاطر کشمیریوں کے حق میں اپنی آواز اٹھائیں۔ ہمارے حکمران کچھ بھی نہیں کررہے صرف پاکستان میں تقریریں اور جلسے کررہے ہیں۔ جب بھارت اپنی گولہ باری اور فائرنگ سے ہمارے نوجوانوں کو مارتا ہے تو نیوز چینلز پر یہ خبر چلتی ہے کہ پاکستان نے بھرپور جواب دیا، لیکن کبھی یہ نہیں بتایا کہ جوابی کارروائی میں کیا کیا؟ میری گزارش ہے اپنے ملک کے حکمرانوں سے کہ کم از کم ایسے وقت میں جب بھارت اپنی ساری حدود پار کرچکا ہے تو متحد ہو کر کشمیر کی آواز بنیں۔ اللہ کے فضل و کرم سے ہماری فوج کا ہر جوان اپنے ملک کے لیے جان قربان کرنے کے لیے تیار ہے اور صرف فوج ہی نہیں بلکہ اس ملک کا بچہ بچہ کشمیر کے ساتھ ہے اور ہر شخص اپنی شہادت پر خوش ہوتا ہے اور اس کا پورا خاندان اس پر فخر محسوس کرتا ہے۔
سید محمود اعجاز، نیشنل کالج کراچی
صحت کی سہولتوں کا فقدان
28 اگست کو ہیپاٹائٹس سے بچائو کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ پاکستان میں ہر دسواں شخص ہیپاٹائٹس کا شکار ہے۔ ہر سال ڈیڑھ لاکھ اموات (HEP) سے ہورہی ہیں۔ اس کو کنٹرول کرنے کے لیے نہ کوئی آگاہی مہم چلتی ہے نہ ہی اس پر بات ہوتی ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد ہیپاٹائٹس A,B,C شروع ہوئی۔ یہ ساری اقسام موت کی طرف لے جاتی ہیں۔ ریگولر ٹیسٹ سے A,B,C کا پتا چل جاتا ہے۔ 80فی صدUnreliablle Method ہیں جو لیبارٹری میں تشخص ہورہے ہیں۔ 20 فی صد آپ Risk پر ہوتے ہیں (مرض کی تشخص کے لیے لیبارٹری علم کی کمی اس بیماری کے لیے خطرہ بن جاتا ہے اور مرض بگڑ جاتا ہے۔ بروقت بچائو اور احتیاطی تدابیر مثلاً آپریشن کے آلات، سرنج، نائی کے پاس جائیں تو کس چیز کا خیال رکھیں اور تمام تر احتیاطی تدابیر کے ذریعے اس مرض کو روکا اور کم کیا جاسکتا ہے۔ دیہی اور شہری عوام کو آگاہ کیا جائے۔ Text Screening ضروری ہے۔ اور اس کے لیے غیر معیاری اور وہ آلات جو دنیا بھر میں بند ہیں وہ پاکستان میں استعمال ہورہے ہیں اس سے پرہیز کیا جائے۔ ہیپاٹائٹس سے جنگی بنیادوں پر نمٹنا ضروری ہے اور اس کے لیے زیادہ سے زیادہ فری ویکسینیشن کیمپ اور سیمینار اور ٹی وی کے ذریعے لوگوں کو آگاہ کیا جاسکتا ہے۔ حکومت کی ذمے داری ہے کہ وہ لوگوں کو صحت کی بہترین سہولتیں فراہم کرے تا کہ اس مرض پر جلد از جلد قابو پایا جاسکے۔
شہناز خان، فیڈرل بی ایریا، بلاک 21، کراچی
کشمیر اور عالمی بے حسی
اسلامی تاریخ میں اتنے بزدل اور بے حس مسلم حکمران شاید ہی گزرے ہوں جیسا کہ اس دور میں مسلم حکمران ہیں۔ پوری دنیا میں خصوصاً فلسطین، شام، برما اور کشمیر میں ظلم کے پہاڑ توڑے جارہے ہوں اور ان مظالم پر ان کی آنکھیں بند ہیں۔ مسلم حکمران اس ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کو تیار نہیں ماضی میں مسلم حکمرانوں نے کسی ایک مظلوم مسلمان بیٹی کو بھی تکلیف پہنچنے پر لشکر کشی کی آج ہم بہترین اسلحہ اور فوج رکھنے کے باوجود ظلم پر آواز تک نہیں اٹھارہے۔ کاش آج کسی مسلم حکمران میں سیدنا عمر، صلاح الدین ایوبی جیسی خصوصیت پیدا ہوجائے اور وہ ظالم کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ظلم کو روک سکے۔
پاکستانی حکمران پتا نہیں کس دنیا میں رہ رہے ہیں وہ اقوام متحدہ اور امریکا سے امید لگا رہے ہیں کہ وہ انڈیا کو اس ظلم سے روکیں گے۔ یاد رکھیں اس وقت پوری دنیا میں مسلمانوں کے لیے کوئی ہمدردی نہیں رکھتا اور نہ ان کو اس ظلم پر انسانیت یاد آتی ہے۔ جس اسلحہ سے ہم اپنے مسلمان بھائی کی حفاظت نہیں کر سکتے اس اسلحہ کو آگ لگادینی چاہیے، ہندو بنیے کا ایک ہی علاج ہے اور وہ ہے جنگ جس کی ابتدا وہ مقبوضہ کشمیر میں کر چکا ہے۔اگر ہمارے حکمران سمجھتے ہیں کہ امریکا اقوام متحدہ یا کوئی مسیحا آئے گا اور مسلمانوں کو ظلم سے ان کو نجات دلائے گا، کشمیر کو آزاد کرائے گا تو وہ احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں ہمیں خود اپنے ہاتھوں سے صرف اللہ کی مدد سے اس بنیے کا علاج کرنا پڑے گا اور کشمیر کو بزور طاقت حاصل کرنا ہوگا۔
محمد شاہد، کراچی