سیوریج لائنیں بند کرنے والوں کوپکڑنارینجرزکی ذمے داری قرار

106

کراچی (اسٹاف رپورٹر)کراچی میں ریت اور پتھروں کی بوریاں ڈال کر سیوریج لائنیں اور گٹر بند کرنے والوں کی تلاش کی ذمہ داری رینجرز کو سونپ دی گئی۔ شہر میں سیوریج کی مین لائنوں سے ریت اور پتھر کی بوریاں نکلنے کا سلسلہ زور پکڑتا جارہا ہے جس کی روک تھام کے لیے رینجرز کو احکامات دے دیے گئے جس کے بعد رینجرز نے شہر قائد کے مین ہولز میں ریت کی بوریاں ڈال کر بند کرنے والے نامعلوم شرپسند عناصر کی تلاش اور علاقہ مکینوں سے معلومات لینا شروع کردیں، مکمل شواہد ملنے کے بعد گرفتاریاں بھی ہوں گی۔ شہر کے مختلف علاقوں ملیر، کورنگی، لانڈھی، حسین آباد، سرجانی، ناظم آباد، نیو کراچی اورنارتھ کراچی سمیت اولڈ سٹی ایریا کے بیشتر علاقوں سے صفائی کے دوران ریت سے بھری بوریاں برآمد ہوئی ہیں جو کہ پانی کی روانی کو متاثر کرنے کا سبب بن رہی تھیں۔ شہر قائد کے بیشتر علاقے گندے پانی کی جھیل کا منظر پیش کر رہے ہیں جگہ جگہ گندے پانی کے جوہڑوں نے شہریوں کی زندگیوں کو سخت اذیت اور پریشانی میں مبتلا کر رکھا ہے۔ ماڈل ملیر زون سعود آباد بن داد کے سامنے مین ہولز سے 10، کھوکھراپار پی ایس او پیٹرول پمپ کے سامنے مین ہول سے 7 سے زائد، ماڈل کالونی سعید سپر اسٹور سے 11، ماڈل کالونی ڈاکخانہ سے 10 جبکہ جلبانی گوٹھ سے تقریباً 60 بوریاں سیوریج کے نالوں سے برآمد ہوئی ہیں، جس سے سیوریج لائنیں بند ہو گئی تھیں اور گندا پانی سڑکوں اور گلیوں میں جمع ہو گیا تھا۔ دوسری طرف وفاقی وزیر پورٹ اینڈ شپنگ علی زیدی کی ٹویٹ میں گٹر اور نالوں سے بوریاں نکالنے والے سینیٹری ورکرز کا کھوج لگا لیا گیا، سینیٹری ورکر صدر صرافہ بازار میں سیوریج لائن سے نکلنے والی بوریوں کے ساتھ کھڑا تھا اور اسے جیولرز نے سیوریج لائنیں کھولنے کے لیے بلایا تھا۔ وفاقی وزیر علی زیدی نے کراچی میں سیوریج کے نظام کو برباد کرنے کے لیے گٹروں میں بوریاں ڈالنے کی سازش کا انکشاف کیا تھا۔