بھارتی جاسوس کلبھوشن کو دوبارہ قونصلر رسائی نہیں دے رہے، دفتر خارجہ

73

 

اسلام آباد ( آن لائن ) ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ کے دورہ پاکستان سے متعلق میڈیا رپورٹس کی نفی کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا میں سعودی اور یواے ای کے وزراء خارجہ سے متعلق ذرائع ابلاغ میں گردش کرنے والی رپورٹس حقیقت پر مبنی نہیں ہیں بلکہ دونوں اسلامی ممالک کے وزراء نے مسئلہ کشمیر سے متعلق پاکستان کے موقف کی حمایت کی ہے۔ بھارتی جاسوس کلبھوشن کو دوبارہ قونصلر رسائی نہیں دے رہے۔وزارت خارجہ میں ہفتہ وارپریس بریفنگ کے دوران ترجمان دفترخارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ دونوں
اسلامی ممالک کے حکام نے پاکستان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور کشمیر کاز کے لیے حمایت کا اظہار کیا۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں لاک ڈاؤن 40 ویں روز میں داخل ہوگیا ہے اور پاکستان کا موقف واضح ہے کہ مسئلہ کشمیر کا معاملہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق حل ہونا چاہیے۔ بریفنگ کے دوران انہوںنے کہا کہ مسئلہ کشمیر پر 58 ممالک کا مشترکہ اعلامیہ آنا پاکستان کی سفارتی کامیابی ہے، کشمیر میں مواصلاتی ذرائع پر مکمل پابندی عائد ہے، انسانی حقوق کمیشن کے اجلاس میں بھارت سے مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کے خاتمے کشمیری قیادت کی رہائی، میڈیا اور عالمی برادری کو کشمیر تک رسائی کے مطالبات کیے گئے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسلام آباد اور نئی دہلی کے درمیان حالیہ ثالثی کی پیش کش سے متعلق ایک سوال کے جواب میں ترجمان دفترخارجہ کا کہنا تھا کہ بھارت اس کے لیے تیار نہیں ہے۔ انہوںنے کہا کہ پاکستان ہمیشہ دو طرفہ مذاکرات سمیت ثالثی کے لیے تیار ہیں اور ہم نے اس کے لیے کئی کوششیں کی تھیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہمارا ہمیشہ یہی موقف ہے کہ ہر مسئلہ مذاکرات کے ذریعے حل ہوسکتا ہے، اب دیکھتے ہیں کہ کیا ہوتا ہے۔ترجمان نے کہا کہ جموں و کشمیر کی جدوجہد ایک عمل ہے، یہ کوئی ایونٹ نہیں، یہ عمل جاری ہے اور یہ آگے بڑھے گا۔ ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا تھا کہ پاکستان کا ہمیشہ یہ موقف رہا ہے کہ افغان تنازع کا واحد حل ان سیاسی مذاکرات کے ذریعے ہے جس کی قیادت افغانوں کی جانب سے کی گئی ہو۔اس موقع پر انہوں نے امید ظاہر کی کہ امریکا اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات جلد بحال ہوں گے۔ترجمان دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ کلبھوشن یادیو کو دوبارہ قونصلر تک رسائی نہیں دی جارہی اور نہ ہی دوبارہ ایسی کوئی تجویز زیر غور ہے۔ اس سے قبل 2 ستمبر کو پاکستان کی جانب سے زیر حراست بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو ویانا کنونشن اور عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کے تحت قونصلر رسائی دی گئی تھی۔ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا تھا کہ کلبھوشن یادیو سے اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمیشن کے ناظم الامور گورو اہلووالیا نے قونصلر رسائی حاصل کی جو قونصلر ریلیشنز پر ویانا کنونشن، عالمی عدالت انصاف کے فیصلے اور پاکستانی قوانین کے تحت دی گئی۔انہوں نے مزید بتایا تھا کہ قونصلر رسائی دن 12 بجے دی گئی تھی جو دو گھنٹے جاری رہی۔بھارتی صدر کیلیے فضائی حدود بند کرنا سیاسی فیصلہ تھا۔دوران بریفنگ بھارتی صدر کے لیے فضائی حدود کی بندش سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ یہ سیاسی فیصلہ ہے۔اس بارے میں وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے بتایا تھا کہ بھارت کی جانب سے اپنے صدر کے لیے پاکستان کی فضائی حدود استعمال کرنے کی درخواست کی گئی تھی جسے مسترد کردیا گیا۔ اسرائیل کو تسلیم کرنے اور ان کے وزیراعظم کے حالیہ بیان پر ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا تھا کہ ہم فلسطین کی 1969 والی سرحد کو ہی تسلیم کرتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کے حوالے سے پاکستان کا موقف واضح ہے۔ ایک سوال کے جواب میں ترجمان دفترخارجہ نے بتایا کہ کرتار پور راہداری منصوبہ پر 20ڈالر کی وصولی راہداری منصوبے کی کنسٹریکشن ورک پر استعمال ہوگی۔
ترجمان دفتر خارجہ