سری لنکا کا دورہ پاکستان منسوخ ہونے کا خدشہ

84

لاہور(آئی این پی) سری لنکن کرکٹ بورڈ کی جانب سے اپنی ٹیم پاکستان بھیجنے سے قبل ایک بار پھر سیکورٹی انتظامات کا جائزہ لینے کے فیصلے پر پاکستان کرکٹ بورڈ(پی سی بی)کا ردِ عمل سامنے آ گیا ہے۔ذرائع کے مطابق پی سی بی کے ترجمان نے کہا ہے کہ سری لنکن بورڈ نے سیکورٹی انتظامات کا دوبارہ جائزہ لینے کیلیے تاحال رابطہ نہیں کیا۔انہوں نے کہا کہ کہ سری لنکن کرکٹ ٹیم کے لیے فول پروف سیکورٹی کا پلان تیارہے تاہم پی سی بی سری لنکن بورڈ کی جانب سے باضابطہ رابطے کے بعد آئندہ کا لائحہ عمل تیار کرے گا۔ترجمان نے بتایا کہ پی سی بی سیریز کیلئے تیاریوں میں مصروف ہے اور سری لنکا کرکٹ ٹیم کی مکمل حفاظت اور سیکورٹی کے عزم کو دہراتا ہے جبکہ اس سلسلے میں سری لنکا کرکٹ کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا۔سری لنکن کرکٹ بورڈ نے گزشتہ روز سیکورٹی خدشات کے پیش نظر دوبارہ انتظامات کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا تھا۔ترجمان سری لنکن بورڈ کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے وزیراعظم آفس سے ٹیم پر ممکنہ حملے کی اطلاع ملی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ وزیراعظم آفس کی جانب سے پاکستان میں ممکنہ حملے کی تنبیہ اور اطلاع باوثوق ذرائع نے دی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پاک سری لنکا سیریز سے پہلے مہمان ملک کی سیکورٹی ٹیم ایک بار پھر پاکستان میں حفاظتی انتظامات کا جائزہ لے گی۔دوسری طرف سابق پاکستانی اسٹارز سری لنکن کرکٹرزپر برس پڑے۔سابق اسٹار رمیز راجہ نے کہاکہ سیکورٹی خطرات تو سری لنکا یہاں تک نیوزی لینڈ میں بھی کم نہیں،حیرت اس بات پر ہے کہ قبل ازیں ورلڈ الیون اور قومی ٹیم کے ساتھ پاکستان کا دورہ کرتے ہوئے فول پروف سیکورٹی انتظامات کو خود اپنی آنکھوں سے دیکھنے والے تھشارا پریرا نے بھی انکار کردیا، میں انفرادی طور پر ان کھلاڑیوں کا مسئلہ تو سمجھ سکتا ہوں جو 2009میں دہشت گردی کا شکار ہونے والے اسکواڈ کا حصہ تھے شاید وہ اس تجربے سے خوفزدہ ہوں۔انھوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال سے اندازہ ہوتا ہے کہ دورئہ پاکستان کے حوالے سے تحفظات دور کرنے میں ایس ایل سی اور کھلاڑیوں میں رابطے کا فقدان رہا، بورڈ نے سیکورٹی انتظامات کا جائزہ لینے کے بعد ٹور کا اعلان کردیا لیکن اسے اندازہ نہیں تھا کہ کھلاڑی اسے مشکل میں ڈال دیں گے،ان کو کرکٹرز کا مسئلہ پہلے دیکھنے کے بعد دورے کا فیصلہ کرنا چاہیے تھا۔رمیز راجہ نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ مشکل وقت میں سری لنکا کا ساتھ دیا، ورلڈکپ 1996اور کولمبو میں بم دھماکوں کے بعد بھی پی سی بی نے اپنی انڈر19ٹیم بھجوائی، ایشیائی ملکوں کی کرکٹ برادری کو ایک دوسرے کا ساتھ دینے کا رویہ اپنانا ہوگا۔جاوید میانداد نے کہا کہ سری لنکن بورڈ قومی ذمہ داریوں پر لیگز کو ترجیح دینے والے پلیئرز کا نوٹس لے، کسی بھی کھلاڑی کیلیے ملک کی نمائندگی پہلی ترجیح ہونا چاہیے، بہرحال جو بھی کرکٹرز آرہے ہیں اس سے قطع نظر پاکستان کو بہترین کرکٹ کھیلنا چاہیے۔شعیب اخترنے کہاکہ پی سی بی نے کولمبو دھماکوں کے بعد انڈر19ٹیم بھجوانے سمیت ہمیشہ سری لنکن کرکٹ کو سپورٹ کیا، دورے سے انکار کرنے والے کرکٹرز نے مایوس کیا ہے