امریکا طالبان دوبارہ مذاکرات کا آغاز جلد ہوگا،ملیحہ لودھی پر امید

86

اقوام متحدہ (اے پی پی) اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے کہا ہے کہ ہمیں توقع ہے کہ امریکا اور طالبان کے درمیان جلد مذاکرات کا دوبارہ آغاز ہوگا جو گزشتہ ہفتہ اچانک معطل ہوگئے تھے، مذاکرات کی بحالی سے انٹرا افغان ڈائیلاگ کی راہ ہموار ہوگی جس سے افغانستان میں طویل عرصے سے جاری لڑائی کا پرامن خاتمہ ممکن ہو سکے گا، افغانستان کی صورتحال سے متعلق سلامتی کونسل اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے کہا کہ امن مذاکرات میں تعطل عارضی ہے اور ہمیں امید ہے کہ مذاکرات جلد شروع ہوں گے کیونکہ دوسری صورت میں تشدد میں اضافہ ہوگا کہ جس سے افغانستان میں مزید کشیدگی اور بے چینی پیدا ہوگی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ تشدد کی مذمت کی ہے اور تمام فریقین پر ضبط وتحمل اختیار کرنے اور اس یقین کے ساتھ امن عمل سے وابستہ رہنے پر زور دیا ہے کہ افغان تنازع کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔ ملیحہ لودھی نے کہا کہ امریکا اور طالبان کے درمیان براہ راست مذاکرات کے دس ادوار سے مسئلے کے حل کی پہلی بنیاد رکھنے کے امکانات روشن ہوئے اور امیدیں پیدا ہوئیں کہ فریقین 18 سال میں ایک دوسرے کے قریب آگئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہم دونوں فریقین پر زور دیتے ہیں کہ وہ دوبارہ رابطہ کریں اور جلد مذاکرات کریں۔ انہوں نے کہا افغانستان میں چار عشروں کی لڑائی اور غیرملکی مداخلت سے خود اٖفغانستان اور پاکستان سے زیادہ کسی اور ملک کا نقصان نہیں ہوا ۔ انہوں نے کہا کہ علاقائی سطح پر گزشتہ ہفتہ اسلام آباد میں چین افغانستان اور پاکستان کے وزرائے خارجہ کے سہ فریقی مذاکرات کا تیسرا دور ہوا جنہوں نے تنازع کو سیاسی بات چیت کے ذریعے حل کرنے کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کیا جو افغانوں کی زیر ملکیت اور انہی کی زیر قیادت ہو۔