افغانستان ،امن مذاکرات منسوخی کے بعد جھڑپوں میں اضافہ

116

واشنگٹن ( مانیٹرنگ ڈیسک) طالبان اور امریکا کے درمیان امن مذاکرات منسوخ ہونے کے بعد افغانستان میں جھڑپوں میں شدت آگئی ہے۔برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق حکام نے کہا ہے کہ امن معاہدہ منسوخ ہونے کے بعد افغانستان کے شمالی علاقوں میں جھڑپوں کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے اور لڑائیاں دوبارہ زور پکڑنا شروع ہو گئی ہیں۔حکام کے مطابق افغانستان کے کم از کم 10 صوبوں میں جھڑپوں کی اطلاعات ہیں جب کہ شمالی علاقوں میں فورسز اور جنگجوؤں کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئی ہیں۔رپورٹ کے مطابق افغانستان کے صوبہ تخار، بغلان، قندوز اور بدخشاں میں شدید جھڑپوں کے بعد طالبان چند ہفتوں سے حکومتی فورسز کو پیچھے دھکیل رہے ہیں۔’رائٹرز’ کے مطابق افغانستان کے صوبے بغلان میں بھی مزاحمت کاروں سے جھڑپیں جاری ہیں البتہ سیکورٹی فورسز نے صوبے کو کابل سے ملانے والی مرکزی سڑک کو جزوی طور پر کلیئر کرا لیا ہے۔دوسری جانب طالبان نے شدید لڑائی کے بعد تخار صوبے کے مزید ایک ضلعے پر قبضہ کر لیا اور 20 سیکورٹی اہلکاروں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا تھا۔تخار صوبے کے گورنر کے ترجمان جواد ہیجری نے بتایا ہے کہ حکومت نے شہریوں کی جانوں کے تحفظ کے لیے پسپائی اختیار کی ہے۔ ہمارے تازہ دم فوجی دستے اس علاقے میں پہنچ گئے ہیں جو جلد قبضہ چھڑا لیں گے۔افغانستان میں لڑائیوں کے ان بڑھتے واقعات کو امریکی صدر کی جانب سے مذاکرات منسوخ کیے جانے کے بعد طالبان کے بڑھتے حملوں کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔