آباداورسی ڈی سی کے درمیان جائدادوں کو ڈیجیٹلائز کرنے کیلیے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط

145
کراچی: آباد اور سی ڈی سی کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر بدیع الدین اکبر اور اور عبدالکریم آڈھیا دستخط کررہے ہیں
کراچی: آباد اور سی ڈی سی کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر بدیع الدین اکبر اور اور عبدالکریم آڈھیا دستخط کررہے ہیں

کراچی(پ ر)ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز (آباد) اورسینٹرل ڈیپوزیٹری کمپنی (سی ڈی سی ) کے درمیان جائدادوں کو ڈیجیٹلائز کرنے کے لیے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔معاہدے کے تحت لینڈ ٹائٹلز ،لینڈ رجسٹریشن کو الیکٹرونک نظام میں تبدیل کیا جائے گا۔معاہدے پر سی ڈی سی کے چیف ایگزیکٹو افسر بدیع الدین اکبر اور آباد کے وائس چیئرمین عبدالکریم آڈھیا نے دستحط کیے۔اس موقع پر سی ڈی سی کے چیئرمین معین ایم فدا،آباد کے چیئرمین محمد حسن بخشی،سینئر وائس چیئرمین انور دائود،آباد سدرن ریجن کے چیئرمین ابراہیم حبیب،سی ڈی سی کے افسران اور آبادکے ارکان کی بڑی تعداد شریک تھی۔اس موقع پر چیئرمین سی ڈی سی اے معین ایم فدا نے جائدادوں کو ڈیجیٹلائز کرنے کے لیے پہل کرنے پر آباد کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ معاہدے کے تحت زمینوں کی فزیکل دستاویزات کو الیکٹرونک نظام میں بدلنے سے زمینوں کے ٹائلز میں ہونے والی جعل سازی ختم ہوجائے گی جس سے نہ صرف خریدار کو فائدہ ہوگا بلکہ اس سے ملکی معیشت کو بھی فروغ ملے گا۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں 60 فیصد مقدمات جائدادوں کے جعلی کاغذات کے حوالے سے ہیں،جائدادوں کے ٹائٹلز اور رجسٹریشن سے نہ صرف زمینوں میں جعلسازی ختم ہوگی بلکہ رجسٹرار آفس میں ہونے والی کرپشن کا بھی خاتمہ ہو گا۔معین ایم فدا نے بتایا کہ 22برس قبل اسٹاک مارکیٹ کے شیئرز کو الیکٹرونک میں تبدیل کرنے کے لیے کام شروع کیا، آج اسٹاک مارکیٹ کے تمام شیئرہولڈرز اور شیئرز الیکٹرونک ہیں،سی ڈی سی کے ذریعے آج آباد کاجائدادوں کو کمپیوٹرائز کرنے کے لیے سی ڈی سی کے ساتھ معاہدہ ایک تاریخی موقع ہے،معاہدے کے بعد اسٹاک ما رکیٹ شیئرز کی طرح تمام لینڈ ٹائٹلز بھی شفافیت کے ساتھ منتقل ہو سکیں گے۔ اس موقع پر آباد کے چیئرمین محمد حسن بخشی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جائدادوں کو ڈیجیٹلائز کرنے کا مقصد لوگوں کو فراڈ سے بچاناہے، لوگوں کی زندگی بھر کی کمائی زمینوں کے جعلی کاغذات کی نذر ہوجاتی ہے، سندھ میں زمینوں کی خرید وفروخت میں ہر تیسرا شخص جعل سازی سے متاثر ہے،لینڈ ٹائٹلز اور رجسٹریشن کے لیے قانون سازی کے لیے وزیراعلیٰ سندھ کے مشیر مرتضیٰ وہاب نے سندھ حکومت کی جانب سے ہرممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔ حسن بخشی نے بتایا کہ 1972ء میں آباد کے قیام کا مقصد پاکستان کے بلڈرز اور ڈیولپرز کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کرنا اور تعمیراتی کام کو ریگولیٹد کرنا تھا،سی ڈی سی کے ساتھ جائدادوں کی ڈیجیٹلائز کرنے کے معاہدے سے ثابت ہوا کہ آباد شفافیت پر یقین رکھتی ہے،کراچی میں بلڈرز کو مافیا کہا جاتا ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ کراچی میں لینڈ مافیا سے آباد کا کوئی تعلق نہیں،آباد کے 98 فیصد ارکان بلڈنگز قوانین کی پاسداری کرتے ہیں، کراچی میں اگر آباد نے تعمیراتی منصوبوں کے لیے 500 نقشے پاس کرائے تو اس کے مقابلے میں 5000 سے زاید عمارتیں غیر قانونی طور پر تعمیر ہوئی ہیں اور یہ غیر قانونی تعمیرات کرنے والے آباد کے ارکان نہیں ہیں۔چیئرمین آباد نے کراچی کے مسائل حل کرنے کے لیے وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم کی سربراہی میں کمیٹی بنانے کے اقدام کا خیر مقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اب کراچی کے مسائل حل ہوں گے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نیا پاکستان ہائوسنگ ٹاسک فورس کمیٹی کے چیئرمین زیغم رضوی نے جائدادوں کو ڈیجیٹلائز کرنے کے لیے سی ڈی سی کے ساتھ معاہدہ کرنے پر آباد کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے رئیل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبے میں ہونے والی کرپشن کا خاتمہ ہوگا اور کاروبار کو بھی فروغ ملے گا ۔ انہوں نے بتایا کہ نیا پاکستان ہائوسنگ منصوبے کی زمین کو بھی ڈیجیٹلائز کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ تمام قوانین اور کاروبار الیکٹرونک نظام میں تبدیل ہونے سے مسائل حل ہوں گے۔آخر میںآبادکے وائس چیئرمین عبدالکریم آڈھیانے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جائدادوں کی ڈیجیٹلائزیشن سے رئیل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبے کو فروغ ملے گا جس سے پاکستانی کی معیشت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔