اور قلعہ فتح ہو گیا

350

سیدنا خالد بن ولیدؓ نے عیسائیوں کے ایک قلعے کا محاصرہ کیا تو ان کا سب سے بوڑھا پادری آپ کے پاس آیا۔ اس کے ہاتھ میں انتہائی تیز زہر کی ایک پڑیا تھی۔ اس نے خالد بن ولیدؓ سے عرض کیا کہ آپ ہمارے قلعے کا محاصرہ اٹھا لیں، اگر تم نے دوسرے قلعے فتح کر لیے تو اس قلعے کا قبضہ ہم بغیر لڑائی کے تم کو دے دیں گے۔ خالدؓ نے فرمایا:
’’نہیں، ہم پہلے اس قلعے کو فتح کریں گے، بعد میں کسی دوسرے قلعے کا رخ کریں گے‘‘۔
یہ سن کر بوڑھا پادری بولا:
’’اگر تم اس قلعے کا محاصرہ نہیں اٹھاؤ گے تو میں یہ زہر کھا کر خودکشی کر لوں گا اور میرا خون تمہاری گردن پر ہوگا‘‘۔
سیدنا خالدؓ نہ فرمانے لگے:
’’یہ ناممکن ہے کہ تیری موت نہ آئی ہو اور تو مرجائے‘‘۔
بوڑھا پادری بولا:
’’اگر تمہارا یہ یقین ہے تو لو، پھر یہ زہر کھا لو‘‘۔ خالد بن ولیدؓ نے وہ زہر کی پڑیا پکڑی اور یہ دعا بسم اللہ وباللہ رب الارض ورب السماء الذی لا یضر مع اسمہ داء پڑھ کر وہ زہر پھانک لیا اور اوپر سے پانی پی لیا۔ بوڑہے پادری کو مکمل یقین تھا کہ یہ چند لمحوں میں موت کی وادی میں پہنچ جائیں گے مگر وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ چند منٹ آپ کے بدن پر پسینہ آیا۔ اس کے علاوہ کچھ بھی نہ ہوا۔
سیدنا خالد بن ولیدؓ نے پادری سے مخاطب ہو کر فرمایا:
’’دیکھا، اگر موت نہ آئی ہو تو زہر کچھ نہیں بگاڑتا‘‘۔ پادری کوئی جواب دیے بغیر اٹھ کر بھاگ گیا اور قلعے میں جا کر کہنے لگا:
’’اے لوگو! میں ایسی قوم سے مل کر آیا ہوں کہ خدا تعالٰی کی قسم! اسے مرنا تو آتا ہی نہیں، وہ صرف مارنا ہی جانتے ہیں۔ جتنا زہر ان کے ایک آدمی نے کھا لیا، اگر اتنا پانی میں ملا کر ہم تمام اہل قلعہ کھاتے تو یقیناً مر جاتے، مگر اس آدمی کا مرنا تو درکنار، وہ بے ہوش بھی نہیں ہوا۔ میری مانو تو قلعہ اس کے حوالے کر دو اور ان سے لڑائی نہ کرو‘‘۔
چنانچہ وہ قلعہ بغیر لڑائی کے صرف سیدنا خالد بن ولیدؓ کی قوت ایمانی سے فتح ہوگیا۔ (تاریخ ابن عساکر)