افکا سید ابوالا علی مودودیؒ

280

استخارہ
استخارہ صرف اْس کام میں کرنا چاہیے جس کا کرنا اور نہ کرنا دونوں جائز ہوں، مگر آدمی اس خلجان میں مبتلا ہو کہ اسے کرے یا نہ کرے۔ ایسی حالت میں اللہ سے دعا کی جاتی ہے کہ وہ دونوں صورتوں میں سے جس صورت میں بھی خیر ہو اْس پر آدمی کا دل جما دے۔ یہ صرف اْس حالت کے لیے ہے جہاں آدمی کی قوتِ فیصلہ کام نہ کر رہی ہو اور وہ تذبذب کی حالت میں مبتلا ہو۔ ہر کام کے لیے استخارہ کرنا شیعوں کا طریقہ ہے۔(خط بنام حکیم محمد شریف مْسلم۔ مکتوبات۔ خط نمبر 55)
٭…٭…٭
حقیقی لیڈر… حُسینؓ یا یزید؟
جس دور کے متعلق یہ سوال کیا گیا ھے وہ حقیقت میں فتنے کا دور تھا۔ مسلمان اْس وقت سخت ذہنی انتشار میں مبتلا ہوگئے تھے۔ یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ اْس وقت عملًا مسلمانوں کا حقیقی لیڈر کون تھا۔ لیکن یہ بات بالکل واضح ہے کہ یزید کا سیاسی اثر جو کچھ بھی تھا صرف اِس بِنا پر تھا کہ اْس کے پاس طاقت تھی اور اْس کے والد (امیر معاویہؓ) نے ایک مضبوط سلطنت قائم کرنے کے بعد اْسے اپنا ولی عہد بنایا تھا۔ یہ بات اگر نہ ہوتی اور یزید عام مسلمانوں کی صف میں شامل ہوتا تو شاید وہ آخری شخص ہوتا جس پر لیڈرشپ کے لیے مسلمانوں کی نگاہِ انتخاب پڑ سکتی۔ اِس کے برعکس حُسین ابنِ علیؓ اْس وقت اْمّت کے نمایاں آدمی تھے اور ایک آزادانہ انتخاب میں اَغلب یہ ہے کہ سب سے زیادہ ووٹ اْن کے حق ہی میں پڑتے۔
(رسائل و مسائل چہارم )
٭…٭…٭
خاتم النبیین
خاتم النّبیّین کے معنی کی جو تاویل بھی قادیانی چاہے کرتے رہیں مگر کم از کم ایک بات سے تو کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا کہ اِس کے معنی سلسۂ نبوّت کو ختم کرنے کے بھی ہو سکتے ہیں اور اْمّت کے نناوے لاکھ ننانوے ہزار نو سو ننانوے فی کروڑ علما اور عوام اس کے یہی معنی لیتے رہے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ نبوّت جیسے نازک معاملے میں، جس پر مسلمانوں کے کْفر وایمان کا مدار ہے، کیا اللہ میاں کو ایسی ہی زبان استعمال کرنی چاہیے تھی جس سے چند قادیانیوں کے سِوا ساری اْمّت یہی سمجھے کہ اب کوئی نبی آنے والا نہیں ہے؟ اور نبیؐ کے اپنے ارشادات تو کسی تاویل کی گنجائش بھی نہیں چھوڑتے۔ اْن میں تو صاف صاف مختلف طریقوں سے اِس بات کو کھول کر ہی کہہ دیا گیا ہے کہ ’’اِس عمارت میں اب صرف ایک اینٹ کی گنجائش تھی اور وہ میں ہوں‘‘۔
کیا اللہ کے رسول کو ہم سے ایسی ہی دشمنی تھی کہ نبی تو آپؐ کے بعد آنے والا ہو اور آپ ہمیں اْلٹی یہ ہدایت دے جائیں کہ ھم اْسے نہ مانیں اور کافر ہو کر جہنّم میں جائیں؟
(ترجمان القرآن دسمبر 1959)
٭…٭…٭
جماعت اسلامی میں مسلک
اِس جماعت (اسلامی) میں اہلِ حدیث، اَحناف، شوافع اور ایسے ہی دوسرے فقہی طریقوں پر چلنے والے مسلمانوں کے لیے اپنے اپنے فقہی مسلک پر عمل کرنے کی پوری آزادی ہے، بشرطیکہ وہ اِن مسلکوں میں سے کسی کے لیے مْتعصّب نہ ہوں اور ان اختلافات کو مغائرت اور جتھہ بندی کا ذریعہ نہ بنائیں۔ جماعت کے اندر جو لوگ بھی شامل ہوں اْنہیں اسلامی عصبیت کے سوا اور ساری عصبیتیں اپنے اندر سے نکالنی ہوں گی خواہ وہ وطنی عصبیتیں ہوں، نسلی ہوں، طبقاتی ہوں یا گروہی۔
کسی رْکنِ جماعت کے لیے کسی دوسرے شخص کا اہلِ حدیث یا حنفی یا شافعی مسلک پر ہونا یا اختیار کر لینا نہ تو سببِ محبت ہی ہو اور نہ ہی سببِ نفرت۔ اِس لازمی و ضروری شرط کے ساتھ اہلِ حدیث، اہلِ حدیث رہتے ہوئے، اور حنفی، حنفی رہتے ہوئے، اور شافعی، شافعی رہتے ہوئے، جماعتِ اسلامی کا رْکن ہو سکتا ہے۔ لیکن جو شخص کسی مخصوص فقہی مذہب کے لیے متعصّب ہو اور اپنے مذہب کے پیروؤں سے محبت اور دوسرے طریقے والوں سے نفرت رکھتا ہو، اور حنفی شافعی یا اہلِ حدیث ہو جانے کو جْرم سمجھتا ہو اْس کے لیے ہماری اِس جماعت میں کوئی جگہ نہیں۔
(ترجمان القرآن، اگست 1944)