وصیت کس قدر کی جائے؟

358

ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی

سوال: کوئی شخص جس کی دو شادی شدہ لڑکیا ں ہیں، لڑکا کوئی نہیں ہے، لڑکیوں کی اجازت کے بعد کیا وہ اپنی تمام جائیداد بیوی کے نام وصیت کرسکتا ہے؟ ظاہر ہے، بیوی کے بعد وہ جائیداد لڑکیوں ہی کی ہوگی۔ اگر پوری جائیداد کی وصیت بیوی کے حق میں جائز نہیں تو کس قدر کی جا سکتی ہے؟
جواب: اگر ہم تین باتوں کو سمجھ لیں تو وصیت اور وراثت کے معاملات کو بآسانی سمجھا جا سکتا ہے۔ تین اصطلاحات ہیں: ہبہ، وصیت اور وراثت۔ ہبہ کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اپنے مال کا مالک ہے، اپنی زندگی میں وہ جس کو چاہے دے، جس کو چاہے نہ دے۔ وہ اپنا مال بیوی کو بھی دے سکتا ہے، بیٹے کو بھی دے سکتا ہے اور بیٹی کو بھی دے سکتا ہے۔ حتیٰ کہ قانونی طور پر یہ بھی جائز ہے کہ وہ کسی ایک کو دے اور دوسروں کو محروم کر دے۔ اگرچہ اولاد میں فرق کرنے سے شریعت میں روکا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ کوئی شخص زندگی میں اپنی اولاد میں سے کسی کو دے اور کسی کو نہ دے، یہ غلط ہے۔ دینا ہے تو سب کو برابر دے۔ لیکن یہ حکم اخلاقی طور پر ہے۔ قانونی طور پر بہر حال اسے حق ہے کہ وہ جس کو چاہے دے اور جس کو چاہے محروم کردے۔
وصیت اس کو کہتے ہیں کہ آدمی کہے کہ میرے مرنے کے بعد میرا فلاں مال فلاں کو اور فلاں مال فلاں کو دے دیا جائے۔ وصیت کے بارے میں حکم ہے کہ یہ ایک تہائی سے زیادہ نہیں کی جاسکتی۔ دوسری بات یہ کہ جن لوگوں کو وراثت میں حصہ ملنا ہے ان کے حق میں وصیت جائز نہیں۔ لیکن موجودہ دور کے حالات کو دیکھتے ہوئے فقہا نے وصیت کی ایک خاص صورت کو جائز قرار دیا ہے۔ عام طور پر ہوتا یہ ہے کہ کسی کا انتقال ہوگیا، اس کے بعض لڑکے شرپسند اور طاقتور ہیں، انھوں نے سارا مال اپنے قبضے میں کرلیا اور اپنی بہنوں کو محروم کردیا، یا لڑکوں میں بھی جو بڑا ہے وہ تیز طرار ہے، اس نے پوری جائیداد پر قبضہ کر لیا اور اپنے دیگر بھائیوں کو اس سے محروم کر دیا۔ چنانچہ فقہا نے اجازت دی ہے کہ آدمی کے مرنے کے بعد اس کی وراثت شریعت کے مطابق جس طرح تقسیم ہوگی، وہ مرنے سے پہلے اس کو شرعی تقسیم وصیت کی شکل میں رجسٹرڈ کراسکتا ہے۔ اس صورت کو انہوں نے اس لیے جائز قرار دیا ہے کہ اس سے کسی مستحق وارث کی حق تلفی نہیں ہو رہی ہے۔ آدمی اپنی زندگی میںاپنی پوری پراپرٹی اپنی بیوی کو دے سکتا ہے، لڑکیوں سے رضامند ی لینے کی ضرورت نہیں ہے، لیکن اس کو وصیت کا نام نہیں دیا جائے گا، بلکہ ہبہ قرار دیا جائے گا۔ پوری پراپرٹی بیوی کی بیوی کے نام منتقل ہو جائے گی اور بیوی کے انتقال کے بعد اس کی وراثت کی حیثیت سے تقسیم ہوگی۔