مصر میں اخوان رہنماؤں کو تاحیات قید کی سزا

88

قاہرہ (انٹرنیشنل ڈیسک) مصر کی عدالت نے اخوان المسلمون کے سربراہ محمد بدیع اور دیگر 9رہنماؤں کو تاحیات قید کی سزائیں سنا دیں۔ عدالتی سماعت میں محمد بدیع اور دیگر رہنماؤں پر فلسطینی تنظیم حماس اور لبنانی تنظیم حزب اللہ کی مدد سے جاسوسی اور دہشت گردی کے الزامات عائد کیے گئے۔ لاخوان المسلمون کے مرشد عام محمد بدیع کو گزشتہ ہفتے بھی2011ء کے مظاہروں کے دوران جیل توڑنے کی کوشش کے الزام میں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ مقدمے میں 3 افراد کو 10 سال اور 2 کو 7 سال قید کی سزا سنائی، جب کہ 5 کو بری کردیا۔عدالت نے محمد بدیع اور ان کے نائب خیرت شاطر کو عمر قید کی سزا دی۔ واضح رہے کہ مصر میں عمرقید کی مدت 25سال ہے۔انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں کے مطابق صدر سیسی کے دور میں مصر میں موت کی سزا سنائے جانے کے واقعات میں بہت زیادہ اضافہ ہو گیا ہے، جس سے معاشرے میں مزید تشدد بھڑکنے کا خدشہ ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ سیاسی طور پر اس طرح کی سزاؤں سے کوئی بہتری پیدا نہیں ہو گی، کیوں کہ لوگ سمجھ چکے ہیں کہ سزائیں کسے اور کیوں دی جاتی ہیںاور حکومت کا ہدف کون ہے۔ واضح رہے کہ 2012 ء میں اخوان المسلمون سے تعلق رکھنے والے صدر محمد مرسی اقتدار میںآئے تھے لیکن آرمی چیف عبدالفتاح سیسی نے 2013 ء میں فوجی بغاوت کرکے محمد مرسی کی حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ فوجی حکومت نے نہ صرف اخوان المسلمون بلکہ اپنے دیگر ناقدین کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کیا، جس میں ہزاروں افراد جاں بحق و زخمی ہوئے۔ صدر محمد مرسی پر کئی مقدمات چلاکر انہیں قید کردیا گیا اور وہ ایک سماعت کے دوران کمرہ عدالت میں انتقال کرگئے۔