بلامعاہدہ بریگزٹ تباہ کن ہوگا‘ خفیہ دستاویز میں انکشاف

73

لندن (انٹرنیشنل ڈیسک) برطانوی حکومت نے پارلیمان کے دباؤ پر بعض خفیہ سرکاری دستاویزات جاری کیں ہیں، جن میں بغیر کسی معاہدے کے یورپی یونین سے انخلا کے ممکنہ خطرناک نتائج سے خبردار کیا گیا ہے۔ 2 اگست کو تیار کی گئی ان دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ اگر برطانیہ 31 اکتوبر کو بغیر کسی معاہدے کے یورپی یونین سے نکل جاتا ہے تو اس کے تباہ کن نتائج ہو سکتے ہیں۔ آپریشن یلوہیمر نامی ان دستاویزات کے مطابق اس صورت حال میں انگلش چینل سے برطانیہ میں داخل ہونے والے سامان بردار ٹرکوں کو کم از کم 2 دن تاخیر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس طرح انگلش چینل پر موجود بندرگاہوں پر سامان کی ترسیل میں رکاوٹ پیدا ہو گی، جس سے برطانیہ میں ادویات اور اشیا خورونوش کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے۔ ملک کے مختلف حصوں میں ایندھن کی قلت ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ چھوٹے پیمانے پر کاروبار کرنے والے افراد کو بھی اشیا کی فر اہمی متاثر ہو سکتی ہے اور اس صورتحال میں ان کے لیے کاروبار چلانا مشکل ہو سکتا ہے۔ 6 صفحات پر مشتمل اس دستاویز میں یہ بھی خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ ایسے حالات میں لوگ سڑکوں پر آ سکتے ہیں، جن سے نمٹنے کے لیے پولیس اہل کاروں کی ایک بڑی نفری درکار ہو گی۔ ان حالات میں جانوروں میں بیماریاں پھیل سکتی ہیں، جس کے انسانی صحت پر بھی اثرات پڑیں گے۔ ساتھ ہی یہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ معاہدے کے بغیر یورپی یونین سے نکلنے سے جنوبی اسپین میں برطانوی علاقے جبل طارق کے لیے اثرات تباہ کن ہو سکتے ہیں۔ ان حالات میں یورپی یونین میں شامل دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے طلبہ، ملازمین، ریٹائرڈ افراد اور سیاحوں کی ان طبی سہولیات تک رسائی فوری طور پر منقطع ہو جائے گی، جوانہیں فی الحال یورپی یونین کے فنڈ سے برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سروس (این ایچ ایس) مہیا کرتی ہے۔ لندن میں سیاحت کے لیے سب سے زیادہ مشہور جگہیں دریائے ٹیمز کے کنارے ہیں۔ لندن میں اس دریا کے جنوبی کنارے پر ’لندن آئی‘، برطانوی پارلیمان کا حامل ویسٹ منسٹر محل اور مشہورِ زمانہ بگ بین ٹاور دیکھے جا سکتے ہیں۔ برطانیہ میں جون 2016ء کے ریفرنڈم کے نتائج کی روشنی میں برطانیہ کو پہلے 29 مارچ 2019ء تک یورپی یونین سے نکلنا تھا۔ تاہم اس سلسلے میں طے پانے والا معاہدہ برطانوی پارلیمان سے مسترد کیے جانے کے بعد وزیر اعظم تھریسا مے کی جانب سے 29 مارچ کی ڈیڈ لائن میں توسیع کی درخواست دی گئی۔ جب کہ حتمی مہلت 31 اکتوبر کی دی گئی ہے۔