امریکا اور چین دفاعی اخراجات میں سبقت لے گئے

74

اسٹاک ہوم (انٹرنیشنل ڈیسک) دنیا بھر میں 2018ء کے دوران ایک کھرب 80 ارب ڈالر فوجی اخراجات کی مد میں خرچ کیے گئے۔ اسٹاک ہوم میں قائم بین الاقوامی امن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی رپورٹ کے مطابق حیران کن اعداد شمار کو ایک انتباہ کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ انسٹی ٹیوٹ کے عہدیدار پیٹر ویزمین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ ضروری نہیں کہ اس قدر خطیر فوجی اخراجات دنیا کو لازمی طور پر کسی عالمی جنگ کی طرف لے جائیں تاہم اس پر بہت قریب سے توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ 1998ء میں سرد جنگ کے بعد کے دور میں فوجی اخراجات خاصی حد تک کم تھے تاہم 2001ء میں نائن الیون کا واقعہ پیش آیا جس کے بعد افغانستان اور عراق میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کا آغاز ہوا اور امریکا اور اس کے اتحادی ممالک کی جانب سے فوجی اخراجات تیزی سے بڑھتے چلے گئے۔ امریکا میں سیاسی اور فوجی امور کے نائب وزیر خارجہ کلارک کوپر کا کہنا ہے کہ امریکا کے پاس اس وقت 11 طیارہ بردار جہاز، طاقتور ایٹمی اسلحہ خانہ، نہایت جدید لڑاکا طیارے اور تقریباً 21 لاکھ فوجی ہیں۔ فاؤنڈیشن فار ڈیفنس آف ڈیموکریسیز کے بریڈلے بومین کے مطابق چین نے دو عشروں میں 2 طیارہ بردار جہاز بنائے جب کہ تیسرا طیارہ بردار جہاز زیر تعمیر ہے۔ اس نے نہایت جدید لڑاکا طیارے بنا لیے ہیں۔