کچرے اور سیوریج نے اورنگی کے مکینوں کاگھرسے نکلنا محال کردیا

107

کراچی (اسٹا ف رپورٹر) اورنگی ٹا ئون میںسیوریج کے پانی اور کچرے کے ڈھیروں نے اہل علاقہ کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ ضلعی انتظامیہ کی عدم تو جہی کے باعث اورنگی ٹائون میںصفائی ستھرائی کا فقدان ہے ، سڑکوں پر کچرے کے ڈھیرگلیوںمیں سیوریج کاپانی جمع ہے۔ عوام کا گھروں سے نکلنا دوبھر ہوگیا ہے۔ صوبائی حکومت اور شہری انتظامیہ کی جانب سے فوری نوٹس نہ لیا گیا تو کچرے و سوریج کے پانی سے اورنگی ٹائون سے متصل دیگر علاقوں میں تعفن پھیلنے کا اندیشہ ہے۔اورنگی ٹائون کے رہا ئشی کمال اشرف نے جسارت سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اورنگی ٹا ئون غازی آباد سیکٹر ساڑھے گیارہ شان مغلیہ شادی ہال کے برابر میں واقع گلی کا حال برسوں سے کچرے اور سیوریج کے بہتے پانی کی وجہ سے ناگفتہ بہ ہے۔ یہاں سے گزرنے والے اور یہاں پر رہنے والے جس اذیت سے دوچار ہیں اسے لفظوں میں بیان کرنا ناممکن ہے۔ یقینا یہ گلی متعلقہ محکمے کی نظروں سے پوشیدہ نہیں ہے لیکن ان کی روایتی بے حسی کی وجہ سے آج تک اس کی حالت جوں کی توں ہے۔ انہوں نے کہا کہ گلی کے دوسرے سرے پر ’’تعمیر ملت‘‘ اسکول ہے جہاں پڑھنے والے سینکڑوں بچے اسی گلی سے گزرتے ہیں جب کہ اکثر خواتین اور بزرگوں کے گرنے کے واقعات بھی ہو چکے ہیں۔ جب کہ قریبی واقع مسجد میں نمازکے لیے جانے والے نمازی حضرات بھی سخت اذیت سے دوچار ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ برس اورنگی ٹائون میں کچرے کے ڈھیر،سیوریج کے پانی اورصفائی ستھرائی کی عدم توجہی کی وجہ سے عوام میں چکن گنیا وائرس کے پانچ ہزار سے زائد کیسسز سامنے آئے تھے اور بڑی تعداد میں قیمتی جانوں کا نقصان ہوا تھا،انہوں نے صوبائی وزیر بلدیات و شہری حکومت سمیت متعلقہ ادارے سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ہنگامی بنیادوں پر اورنگی ٹائون کا دورہ کریں اور کچرے کے ڈھیر،سیوریج کے پانی سمیت صفائی ستھرائی کے انتظامات کو ٹھیک کریں۔انہوںنے مطالبہ کیا کہ سڑکوں کی مرمت سمیت دیگر نظام کو بہتر بنا کر عوام کو فوری ریلیف فراہم کیاجائے۔