کراچی کو وفاق سے کنٹرول کرنے کی تجویز ‘ منفی اور مثبت نتائج کا امکان

142

کراچی ( تجزیہ : محمد انور ) وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم کی جانب سے کراچی کی بہتری کے لیے شہر یا سندھ کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے آرٹیکل 149 کے تحت اختیارات حاصل کرنے کے ” چٹکلے ” نے کراچی کے لوگوں کو خوش فہمی میں مبتلا کر دیا ہے۔ شہریوں کو توقع ہے کہ وفاقی حکومت کے اہم وزیر کی تجویز پر عمل ہوجائے تو شہر کی حالت بہتر نہیں بلکہ بہترین ہوجائے گی۔ تاہم سیاسی سوجھ بوجھ رکھنے والوں کو خدشہ ہے کہ اس تجویز پر عمل کے فیصلے کے ساتھ ہی ایک بڑا سیاسی تنازع شروع ہوجائے گا جس کے بڑھنے کے نتیجے میں وفاقی حکومت سندھ حکومت کو برطرف کرنے کے لیے بھی آئینی حق استعمال کرسکے گی اور کراچی کو کنٹرول کرنے کے بجائے پورا صوبہ سندھ ” قابو ” میں کرلے گی۔ ایسا کرنے سے بھی کراچی سمیت سندھ کے حالات کشیدہ ہوجائیں گے اور صوبے میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہوگی۔ اگر خدانخواستہ ایسا ہوا تو کراچی کی گندگی غلاظت کا معاملہ لوگوں کے ذہنوں سے اوجھل ہوسکتا ہے اور شہر مزید گندا ہوجائے گا،لیکن اگر نئے مجوزہ نظام کو بھی پرانے بلدیاتی چہروں کے ذریعے چلایا گیا تو اس کے بہتر نتائج برامد ہونے کا امکان نہیں ہے۔ کراچی کے بلدیاتی نظام کو سودمند بنانے کے لیے ضروری ہوگا کہ ” کراچی کو اس حالت میں پہنچانے کے ذمے داران منتخب شخصیات اور سرکاری افسران سے کنارہ کشی اختیار کی جائے۔ اطلاعات ہیںکہ وفاقی حکومت کراچی کو ماڈل شہر بنانے کی خواہش رکھتی ہے اس مقصد کے لیے وہ کراچی کو ماضی میں ماڈل سٹی بنانے والی پارٹی جماعت اسلامی سے بھی مدد اور معاونت چاہتی ہے۔ سیاسی عناصر کا کہنا ہے کہ اگر ایم کیو ایم کو وفاق کی اس تجویز سے انکار نہیں ہوا تو یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت کراچی کو بدلنا چاہتی ہے۔ لیکن سب سے اہم امر یہ ہے کہ کیا سندھ میں موجود پیپلز پارٹی کی حکومت وفاق کی جانب سے کیے جانے والے فیصلوں کو قبول کرلے گی ؟۔ ایک خدشہ یہ بھی ہے کہ سندھ یا کراچی میں تبدیلی کے نام پر ” تبدیلی حکومت ” اپنا سیاسی وزن چیک کررہی ہے۔ یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ وفاقی سطح پر اس بات پر متعدد مرتبہ غور کیا جاچکا ہے کہ کراچی کو براہ راست وفاق کی نگرانی میں لے لیا جائے۔ اس تجویز پر ایک عنصر اگرچہ خاموش رہا مگر خیال ہے کہ حکومت کو اس کی حمایت حاصل ہوجائے گی۔