امریکی جنگ میں شرکت غلط فیصلہ تھا،صدر عارف علوی

198
اسلام آباد: صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کررہے ہیں‘ جبکہ اپوزیشن ارکان احتجاج کررہے ہیں
اسلام آباد: صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کررہے ہیں‘ جبکہ اپوزیشن ارکان احتجاج کررہے ہیں

اسلام آباد( نمائندہ جسارت) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ امریکی جنگ میں شرکت غلط فیصلہ تھا۔جمعرات کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کر تے ہوئے انہوںنے کہا کہ ہر فیصلہ کرتے ہوئے ہمیں ملکی مفاد مقدم رکھنا ہوگا، یہ ہمارے بیانیے کی کامیابی ہے کہ اب دنیا اعتراف کر رہی ہے کہ افغانستان کے مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔عارف علوی کا کہنا تھا کہ غاصب بھارتی افواج تشدد، قتل و غارت، پیلٹ گن کے استعمال اور خواتین کی عصمت دری جیسے سفاکانہ اقدامات سے انسانی حقوق کی دھجیاں اڑا رہی ہے، اگر دنیا نے بھارت کی کشمیر میں نسل کشی کا نوٹس نہ لیا تو بڑا عالمی بحران جنم لے سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت کی جنونی کارروائیوں سے 90 لاکھ کشمیریوں کی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہیں،مظلوم کشمیریوں کی نسل کشی قطعاً برداشت نہیں کی جائے گی، پوری قوم اپنے کشمیری بہن بھائیوں کے ساتھ کھڑی ہے، بھارت نے یکطرفہ اقدامات سے عالمی معاہدوں اور شملہ معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے، کشمیر بھارت کا اندرونی معاملہ نہیں بلکہ تصفیہ طلب مسئلہ ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ بھارت جموں و کشمیر میں تمام پابندیوں کا خاتمہ کرے اور اقوام متحدہ کشمیری میں اپنے آزاد مبصربھجوائے، اگر مسئلہ کشمیر حل نہ ہوا توعلاقائی امن کے لیے شدید خطرہ بن سکتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بھارت ہمیشہ پاکستان کے اندر دہشت گردی کارروائیوں کاسرپرست رہا ہے، سنگین جرائم کی پاداش میں کلبھوشن کو موت کی سزا سنائی تھی، پلوامہ واقعے پر بھارت سے ثبوت مانگنے پر کوئی جواب نہیں ملا، بھارت پلوامہ حملے کو آڑ بناکر دراندازی کی کوشش کی لیکن پاکستان کی مسلح افواج نے بھرپور جواب دیا اور بھارت کا طیارہ مارگرایا اور ایک پائلٹ بھی گرفتارکرلیا گیا، وزیراعظم نے خیرسگالی کے طور پر گرفتار بھارتی پائلٹ ابھی نندن کو گرفتار کر کے چھوڑ دیا، بھارت نے اس رویے کو ہماری کمزوری سمجھا، ہماری امن کا خواہش کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے۔عارف علوی کا کہنا تھا کہ کرنٹ اکانٹ خسارہ اور گردشی قرضے ورثے میں ملے، محصولات کا بڑا حصہ قرضوں کی ادائیگی میں خرچ ہو جاتا ہے، احتساب کے اصول بالائے طاق رکھ کر ماضی میں حکمرانوں نے ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔صدرمملکت کا کہنا تھاکہ معاشی اعتبار سے ملک تاریخ کے مشکل ترین دور سے گزر رہا ہے، اس لیے 2019ء کے بجٹ میں سخت فیصلے کرنے پڑے، حکومت کو بجلی اور گیس کے بلوں میں کمی پر توجہ دینا ہوگی۔عارف علوی نے کہا کہ سی پیک پاکستان اور چین کے لیے فائدہ مند ہے، اس سے وسط ایشیا تک رسائی ہوگی، چین کے ساتھ آزادانہ تجارت سے پاکستان میں سرمایہ کاری کے دروازے کھلیں گے، ہمسایہ ملک میں دیر پا امن سے تجارت کے لیے راہداریاں کھلیں گی۔صدر کا کہنا تھا کہ ٹیکنالوجی کو فروغ دے کر ملک کو ترقی دیں تاکہ پاکستان دیگر ملکوں کے شانہ بشانہ کھڑا ہوسکے، حکومت اداروں کو جدید خطوط پر استوار کرنے پر کام جلد مکمل کرے، پارلیمنٹ خواتین کی وراثت جیسے بل جلد منظور کرے، آبادی میں تیز رفتار اضافہ ملکی وسائل پر دباؤ کا باعث ہے، حکومت آبادی میں اضافے کے مسئلے پر آگاہی مہم چلائے معاشرے کی اصلاح کے لیے مسجد اور منبر انتہائی اہم ہیں، علمائے کرام آبادی میں اضافے کے منفی اثرات سے عوام کو آگہی دیں، ملک کی ترقی میں اداروں اور سول سروسز کا کردار انتہائی اہم ہے۔ صدرمملکت نے یہ بھی کہا کہ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ملک کا مستقبل جمہوریت سے وابستہ ہے۔ صدر کے خطاب کے دوران اپوزیشن کی جانب سے مسلسل احتجاج کیا جاتا رہاجس پرعارف علوی نے کہا کہ آپ شور مچاتے جائیں مگر بات بھی سن لیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ہنگامے تو جاری رہیں گے لیکن مثبت کام کریں۔عارف علوی نے مزید کہاکہ پاکستان میں اظہار رائے کی آزادی ہے، موجودہ صدی ذرائع ابلاغ کی صدی ہے،میڈیا کو بھی ذمّے دارانہ کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ سوشل میڈیا کے حوالے سے جامع منصوبہ بندی کی جائے تاکہ جھوٹی خبروں کو پھیلنے سے روکا جا سکے۔