کراچی پر قبضہ ناقابل برداشت ہے،سندھو دیش بھی بن سکتا ہے،بلاول زرداری

182

حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)کراچی پر قبضہ ناقابل برداشت ہے۔سندھو دیش بھی بن سکتا ہے۔بلاول زرداری۔تفصیلات کے مطابق پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول زردار ی نے کہا ہے کہ کراچی پر قبضے کی باتیں وفاق کو کمزور کرنے کی سازش ہے‘ اسلامی جمہوری وفاق ہی پاکستان کو جوڑے ہوئے ،سلیکٹڈ حکومت اور غیر جمہوری قوتیں ہوش کے ناخن لیں۔ ہم اس کٹھ پتلی حکومت کو نہیں چلنے دیں گے، یہ نالائق وزیراعظم ہے ملک چلانا ان کے بس کی بات نہیں ، جس دن امریکا میں ٹرمپ سے ملے دو سرے روز کشمیر پر قبضہ ہوگیا۔وہ حیدرآباد پریس کلب میں پریس کانفرنس کررہے تھے۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، پیپلزپارٹی کے صوبائی صدر نثار احمد کھوڑو، صوبائی وزراء سعید غنی، سہیل انور سیال، ناصر شاہ، شرجیل میمن، مولابخش چانڈیو، پیپلزپارٹی کے ضلعی صدر صغیر قریشی، جنرل سیکریٹری علی احمدسہتو ، عاجز دھامراہ اور دیگر بھی موجود تھے۔ بلاول زرداری نے کہاکہ گزشتہ روز وفاقی وزیر قانون کا حکومت کی طرف سے اعلان کیا گیا کہ وفاق کراچی پر قبضہ کرنا چاہتا ہے ، ہم کسی صورت صوبے کیخلاف اس طرح کی سازش برداشت نہیں کریں گے یہ کیا مذاق ہے کہ ہمارے وسائل چھین لو ، معاشی قتل عام کرو ، ہمارے بچوں کو تعلیم اور تحفظ سے محروم رکھو اور پھر سندھ کے دارالحکومت کراچی پر قبضہ بھی کرلو، ایک طرف بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کیخلاف بیانیہ دیا جارہا ہے کہ مودی نے کشمیر پر قبضہ کرلیا ہے دوسری طرف تم کراچی پر قبضہ کررہے ہو۔ انہوں نے کہاکہ ملک میں جمہوریت کا جنازہ نکالا جارہا ہے ۔عمران خان نے اپنے ملک کے سیاسی رہنماؤں کو قیدی بنایا ہوا ہے ، ہم انہیں بتادینا چاہتے ہیں کہ یہ ملک چلانا کرکٹ میچ نہیں ہے ۔بڑی مشکلوں سے چاروں صوبوں کو جوڑ کر ملک چلایا جارہا ہے۔ اسلام آباد کی اسی ذہنیت کی وجہ سے ملک کا ایک حصہ الگ ہوا تھاوہ ہم سے زیادہ محب وطن تھے ۔اگر آپ اسی طرح ظلم کرتے رہے تو پھر سندھودیش اور سرائیکستان بھی بن سکتا ہے۔سلیکٹڈ حکومت اور غیر جمہوری قوتیں ہوش کے ناخن لیں۔ اسلامی جمہوری وفاقی ہی واحد نظام ہے جو ملک کو جوڑے ہوئے ہیں انہوں نے کہاکہ وہ سندھ کے نام نہاد سیاستدان جو کہتے تھے مرسوں مرسوں سندھ نہ ڈیسوں وہ کہاں چلے گئے ، ایم کیوایم پاکستان کو بھی استعفا دینا چاہیے۔ کیا کراچی والے کراچی کو نہیںچلائیں گے تو پھر اسلام آباد سے کراچی کو چلایا جائیگا، پیپلزپارٹی کی عوامی مہم جاری ہے ہم ہر سطح پرآواز اٹھارہے ہیں۔ مزدوروں کا معاشی قتل عام تاجروں اور کسانوں کا استحصال ہورہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ یہ حکومت کی پہلی اور آخری کوشش نہیں ہے ، یہ وفاق کو کمزور کرنا چاہتے ہیں ، لاہور میں کچرا اور بارش ہوتی ہے تو پھر اسلام آباد لاہور پر قبضہ کرنے کی بات کرتا ہے یا خیبر پختونخوا میں جہاں سب سے زیادہ کرپشن ہے وہاں صورتحال خراب ہوتی ہے تو پھر اسلام آباد وہاں قبضہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کی معاشی صورتحال بہت خراب ہے، تین چار سالوںسے صورتحال اس طرف جارہی تھی ایک سال میں اس حکومت نے اتنا قرضہ لیا ہے جتنا 10 سال میں ہماری حکومت نے لیا تھا۔ ہم آئی ایم ایف سے لڑ کر امداد لیتے تھے اور میاں صاحب بھی اپنے طریقے سے قرضہ لیتے تھے لیکن یہ حکومت فیصلہ ہی نہیں کرسکی کہ قرضہ لینا ہے یا نہیں، ان کیلیے آسان تھا کہ یہ مہنگائی میں اضافہ کردیں اور ہر چیز پر ٹیکس لگادیں۔انہوں نے کہاکہ کشمیر کے مسئلے پر ہمارے وزیراعظم نے اب تک ایک غیرملکی دورہ نہیں کیا وہ کہہ رہے ہیںکہ اقوام متحدہ میں جاکر کشمیر کا مقدمہ پیش کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ یہ کٹھ پتلی حکومت ہماری صوبائی آزادی کو چھیننا چاہتی ہے ، 18ویں ترمیم جو آئین کے تحت ہے اور ہم نے جدوجہد کرکے اور آمروں سے لڑ کر قربانی دینے کے بعد اس آئین کو بچایا ہے یہ حکومت اس آئین پر حملے کررہی ہے ، ایک طرف عوام کو حقوق نہیں دیے جارہے ، کراچی میں این آئی سی وی ٹی اور جناح ہسپتال کو چھینا گیا پھر وفاقی حکومت نے اس کے فنڈز بھی جاری نہیں کیے ہیں۔ آئین کے مطابق جو ذرائع آمدنی ہے وہ مقامی سطح پر خرچ ہونی چاہیے۔ سندھ کے گیس کی بجائے قطر کی ایل این جی گیس ہمیں دی جارہی ہے، وزیراعظم سندھ میں کھڑے ہوکر کہہ رہے ہیںکہ 18ویں ترمیم سے وفاق کمزور ہورہا ہے۔ یہ مالی معاملات نہیں چلاسکتے انہوں نے صوبوں کو تباہ کردیا ہے۔