پی پی کا مولانا فضل الرحمٰن کے دھرنے میں شرکت کے بجائے اخلاقی حمایت کا اعلان

59

حیدرآباد (نمائندہ جسارت) پاکستان پیپلز پارٹی کا فضل الرحمان کے حکومت مخالف دھرنے میں شرکت سے انکار۔وفاق کی کراچی سے متعلق کمیٹی کو غیر آئینی قرار دے دیا۔تفصیلات کے مطابق پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان نے اسلام آباد میں احتجاج کیلیے خود پہل کی اور اعلان کیا۔انہوں نے کہا کہ فضل الرحمان کی سیاست اور ایشوز کی اخلاقی اور سیاسی حمایت کرتے ہیں تاہم پیپلزپارٹی پہلے بھی اپوزیشن میں ہوتے ہوئے دھرنا سیاست میں شریک نہیں ہوئی۔بلاول کے مطابق مولانا فضل الرحمان اسلام آباد میں ہوں گے اور میں پورے پاکستان کا دورہ کروں گا، دونوں کا بیانیہ ایک ہی ہوگاکہ کٹھ پتلی حکومت کو برداشت نہیں کرسکتے۔انہوں نے کہا کہ کشمیر کے معاملے پر حکومت کی کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی ۔حکومت نا صرف ملکی مسائل حل کرنے میں بلکہ کشمیر کے نازک مسئلے کو حل کرنے میں بھی ناکام ہوچکی ہے۔ احتجاج پر مولانا کی اخلاقی حمایت کریں گے اورکٹھ پتلی وزیراعظم کوگھر جانا ہوگا ۔ہم نے مل کر آمریت اور انتہا پسندی کا مقابلہ کیاہے جبکہ اس وقت جمہوریت پرحملہ کیاجارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت ہمارامعاشی قتل کررہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے تھانہ احمد خان میںپی پی پی رکن صوبائی اسمبلی ملک اسد سکندرکی والدہ کی وفات پر ان سے تعزیت کرنے کے بعد وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کے ساتھ میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے کیا-انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم پاکستان کے کراچی کے دورے سے متعلق پتا نہیں ہے یہ لوگ صرف فوٹو سیشن اور تماشے کے لیے آتے ہیں اورکراچی کی صفائی مہم کے نام پر ایک جگہ کا کچرا دوسری جگہ پھینکا جارہاہے۔- انہوں نے کہا کہ سلیکٹڈکی حکومت غلطی پر غلطی کررہی ہے اوراس کٹھ پتلی حکومت نے جو معیشت سے کیا ہے وہ قابل برداشت نہیں ہے۔- انہوں نے کشمیر کے حوالے سے کہا کہ کشمیر کے معاملے پر حکومت کی کوئی کوتاہی برداشت نہیں ہوگی اور یہ حکومت نا صرف ملکی مسائل حل کرنے میں بلکہ کشمیر کے نازک مسئلے کو حل کرنے میں بھی ناکام ہوچکی ہے۔- انہوں نے کہا کہ مودی حکومت نے کشمیریوں کو جیل میں دھکیل دیا ہے اور ان کا جینا اجیرن کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے کشمیر کے لیے کوشش ہی نہیں کی او ر وزیر اعظم کو چاہیے تھا کہ وہ کشمیریوں کا سفیر بنتے لیکن عمران خان نالائق ہیں -انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی ایک سیاسی جماعت ہے اور پارٹی کے لوگ خاندان کی طرح ہیںجبکہ پیپلزپارٹی کا واضح موقف ہے کہ این ایف سی ایوارڈ کے مطابق صوبے کا حق دیا جائے جو کہ نہیں مل رہاہے جبکہ ہم عوام کے مسائل کے حل کے لیے مختلف طریقوں سے کوششیں کررہے ہیں- انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت سمجھتی ہے کہ وہ اپوزیشن پر کیسز بناکر بلیک میل کرے گی لیکن ہم کہتے ہیں کہ جس کو چاہے جیل میں ڈالے ہم اپنا موقف نہیں بدلیں گے- مولانا فضل الرحمان کے احتجاج کے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ وہ احتجاج پر مولانا کی اخلاقی حمایت کریں گے اورکٹھ پتلی وزیراعظم کوگھر جانا ہوگا ۔پی پی چیئرمین نے وزیراعظم کی کراچی سے متعلق بنائی گئی کمیٹی کو غیر آئینی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف، گرینڈ ڈیمو کریٹک الائنس اور متحدہ قومی مومنٹ سندھ کو توڑنے اور کراچی کو الگ کرنے کی سوچ رکھتے ہیں جس کی اجازت نہیں دیں گے۔بعد ازاں چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری نے وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور دیگر کے ہمراہ حیدرآباد میں رکن قومی اسمبلی طارق علی شاہ جاموٹ سے ان کی والدہ کے انتقال پر تعزیت کی اور مرحومہ کے ایصال ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی ۔