یوریا کی قیمت میں اضافے سے زرعی شعبہ کمزور ہو جائے گا

30

کراچی ( اسٹاف رپوٹر)پاکستان اکانومی واچ کے صدر ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے کہا ہے چینی کی قیمت میں مسلسل اضافہ عوام کا استحصال اور ناقابل قبول ہے ۔چینی جوکچھ عرصہ قبل پینتالیس روپے کلو دستیاب تھی اب اسی روپے فی کلو بک رہی ہے اور اسکی قیمت میںمسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ چینی کی قیمت میںبلاجواز اضافہ سے شوگر مل مالکان کے منافع اور عوام کے مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے مگر کوئی اس کا نوٹس لینے کو تیار نہیں ہے۔ ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے کہا کہ چینی کی قیمت بڑھانے سے سرمایہ داروں کا منافع بڑھ رہا ہے مگر گنے کے کاشتکاروں کو کوئی فائدہ نہیں ہو رہا بلکہ ان کا استحصال جاری ہے۔ ان کی پیداوارکی کوڑیوں کے مول خریدنے، ان کی ادائیگیاں روکنے اور دیگر منفی ہتھکنڈوں کا سلسلہ پورے زور و شور سے جاری ہے۔انھوں نے کہا کہ یوریا کی قیمت میں بھی دو سو روپے فی بوری کا اضافہ جلد ہی متوقع ہے جس سے سرمایہ کاروں کی مالی حالت مستحکم اور زرعی شعبہ کمزور ہو جائے گا جبکہ زرعی پیداوار کی قیمتوں میں اضافہ ہو گا جس سے عوام کی پریشانی بڑھے گی۔انھوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے رواں مالی سال کے لیے سالانہ افراط زر 6 فیصد مقرر کی گئی تھی لیکن مہنگائی کی یہ شرح فروری میںڈبل ڈیجیٹ سے تجاوز کر گئی تھی جو اس وقت حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق 11.63 فیصد تک پہنچ گئی جو گزشتہ پانچ سال کی بلند ترین شرح ہے۔