پاکستان انوسٹمنٹ کانفرنس کا وسیع مباحثوں کے بعد اختتام ہوگیا

25

کراچی ( اسٹاف رپورٹر)چوتھی سالانہ پاکستان انوسٹمنٹ کانفرنس غیر ملکی سرمایہ کاری کے طریقوں کی تلاش کے ساتھ ساتھ پاکستان اور امریکا کے مابین دوطرفہ تجارت میں اضافہ پر وسیع مباحثوں کے بعد اختتام پذیر ہو گئی۔ جے ایس بینک کے ذیلی ادارے جے ایس گلوبل کے زیر اہتمام منعقدہ کانفرنس کا مقصد پاکستانی کارپوریٹس کو اپنے امریکی ہم منصبوں کے ساتھ منسلک کرنے اور ترقی و ٹیکنالوجی کی منتقلی کے لیے رابطے کے چینلز بنانا تھا۔ دورہ کے دوران وفد نے امریکی محکمہ خارجہ، چیمبر آف کامرس، یو ایس ایڈ، یو ایس ۔ پاکستان بزنس کونسل اور گلوبل فنڈ منیجرز کے نمائندوں کے ساتھ ملاقات کی۔ وفد کی قیادت گورنر سندھ عمران اسماعیل نے کی جبکہ اس میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے سفیر علی جہانگیر صدیقی، جے ایس جی ایل کے سی ای او کامران ناصر، جے ایس بینک کے صدر و سی ای او بسیر شمسی، حبکو کے سی ای او خالد منصور، پاکستان بزنس کونسل کے سی ای او احسان ملک سمیت پاکستان کی ممتاز کارپوریشنز کے سی ای اوز اور سی ایف اوز شامل تھے۔ عمران اسماعیل نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ کی وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کے دوران امریکا کی طرف سے پاکستان کو دونوں ممالک کے مابین تجارتی صلاحیتوں کی تلاش کی دعوت دی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ پاکستان انوسٹمنٹ کانفرنس پاکستان کی معیشت کی مضبوطی کے لیے غیر ملکی اور پورٹ فولیو سرمایہ کاری کو راغب کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ دورہ کے دوران سرمایہ کاری کے لیے سفیر علی جہانگیر صدیقی نے کہا کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے پرکشش مقام کے حوالے سے بہتری آئی ہے، اور سرمایہ کاروں کو پاکستان کو اچھے منافع اور محفوظ سرمایہ کاری کی مارکیٹ کے طور پر سمجھنا چاہیے۔ کامران ناصر نے تمام شراکت داروں اور شرکاء سے اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ جے ایس جی سی ایل کو بین الاقوامی برادری میں پاکستان کے تشخص کو بہتر بنانے اور ملکی معیشت کے لیے مفید اقدامات کا حصہ بننے پر فخر ہے۔ مباحثوں کا دائرہ پاکستان میں کاروباری مواقع اور دونوں ممالک کے لیے کاروبار کرنے میں آسانی پر مرکوز تھا۔ وفد میں PSX 100 انڈیکس بینچ مارک کے ایک تہائی مارکیٹ کیپیٹلائزیشن پر مشتمل صف اول کی کمپنیاں شامل تھیں۔